جمعہ، 15 مئی، 2015

رائٹنگ این انگلش بلاگ

رائٹنگ این انگلش بلاگ از ناٹ این ایزی تھنگ... 
بِکاز یو ہیو ٹو رائٹ اٹ ان انگلش. 

ناؤ-آ-ڈیز، اٹ از ویری کامن ٹو یوز رومن اردو آن انٹرنیٹ... 

ایز پیپل سیز دیٹ اٹ از ایزی ٹو رائٹ اینڈ انڈرسٹینڈ ان رومن اردو. اینڈ اٹ از ناٹ ایزی ٹو انڈرسٹینڈ اردو ریٹن ان اردو سکرپٹ. دس از ویری سٹرینج فار می. 

سو آئی ڈیسائڈڈ ٹو رائٹ آ بلاگ ان اردو انگلش. مے بی اٹ از آلسو ایزی ٹو انڈرسٹینڈ فار پیپل لائک می، ہو کانٹ انڈرسٹینڈ انگلش ویری ویل. اینڈ آلویز ڈو سم سپیلنگ مسٹیکس. 

ایکچویلی، آئی لائک اٹ. ایز دیئر از نو نیڈ ٹو پُٹ 'ک' بیفور نالج. اٹ از مور فونیٹک دین انگلش اٹ سیلف. 

اف یو وانٹ ٹو ایوائڈ اینی انگلش گورو پوائنٹنگ ٹوورڈز  یور سپیلنگ مسٹیکس، انسٹیڈ آف فوکسنگ آن یور پریشئس تھاٹس. دس از دا وے فارورڈ. 

اف یو انڈرسٹینڈ، وٹ آئی ایم ٹرائنگ ٹو سے... 

دین پلیز سٹارٹ رائنگ اردو ان اردو سکرپٹ. اٹ از ناؤ ویری ایزی ٹو رائٹ ان اردو سکرپٹ، ایز مینی ٹولز آر اویلیبل فار کمپیوٹر اینڈ موبائل بوتھ. 

فار کمپیوٹر، جسٹ سرچ فار "پاک اردو انسٹالر" اینڈ انسٹال اٹ. یو کین رائٹ اردو بائی جسٹ سوئچنگ دا لینگویج ان لینگویج بار. 

فار موبائل انسٹال اینی اردو انیبلڈ کی بورڈ، اینڈ یوز اٹ بائی سوچنگ لینگویج ود سوائپ آف سپیس بار. 

آفٹر دس، اِف اینی ون آنسرڈ می ان رومن اردو آن مائی اردو پوسٹ. آئی ول آنسر ہم ان اردو انگلش. 

اِف ریڈنگ دِس بلاگ واز ڈیفیکلٹ فار یو، دین سٹارٹ رائٹنگ اینڈ پروموٹنگ اردو ان اردو سکرپٹ. ایز اردو از آور نیشنل لینگویج. اٹ ہیز ٹو بی پریزنٹڈ ان اردو سکرپٹ. 

تھینک یو فار یور ٹائم اینڈ ہیڈ ایک. 

جمعہ، 8 مئی، 2015

نہیں...

نہیں... 

نہیں، آپ غلط کہہ رہے ہیں... 
نہیں، آپ کی رائے غلط فہمی پر مبنی ہے... 
نہیں، آپ کی سوچ غلط ہے... 
نہیں، جیسا آپ کہہ رہے ہیں ویسا نہیں ہے... 
نہیں، میں نہیں مانتا... 

جی ہاں! 
اس نہیں کی ہمارے معاشرے میں بڑی اہمیت ہے. یہ وہ دیوار ہے جو بحث شروع ہوتے ہی کھڑی کر دی جاتی ہے. ہماری اکثر مباحث نہیں سے شروع ہو کر نہیں پر ختم ہو جاتی ہیں. اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات. 

ہماری مباحث میں زیادہ زور اپنی رائے کے حق میں دلائل کے بجائے دوسرے کی رائے کی نفی پر ہوتا ہے. دوسرے کی رائے کا احترام سرے سے مفقود ہوتا جا رہا ہے. 

اس سے بھی زیادہ افسوسناک یہ کہ اختلاف رائے پر نوبت نفرت اور قطع تعلقی تک جا پہنچتی ہے. 

کسی بھی معاملے پر اپنے علم کے مطابق کوئی بھی رائے اختیار کرنا ہر کسی کا حق ہے. اس کی رائے کا احترام دراصل اس کے علم کا احترام ہے. اور اس کی رائے کی نفی دراصل اس کے علم کی نفی ہے. 

اور یہی طرزِ عمل بحیثیتِ مجموعی ہمارے اندر عدم برداشت کو پروان چڑھا رہا ہے. 

اس کلچر کو بدلنے کی ضرورت ہے. ایک دوسرے کی بات کو سننے، سمجھنے، برداشت کرنے اور احترام دینے کا رویہ اپنانا ہو گا. 

اگر آپ کی رائے دوسرے سے مختلف ہے تو اس کی رائے کی نفی کیے بغیر، اچھے الفاظ میں اپنی رائے مدلل انداز میں پیش کریں. اس سے دوسرے کے اندر بھی آپ کی بات سننے کا جذبہ پیدا ہو گا. اور نہیں کہہ دینے کی وجہ سے آراء کے درمیان کھڑی ہو جانے والی دیوار نہیں بنے گی. 

کوشش کریں کہ اختلافِ رائے دشمنی اور نفرت میں نہ تبدیل ہو. 

یقین جانئیے! 
اس رویہ کی تبدیلی سے معاشرے میں برداشت بڑھے گی. مباحث نتیجہ خیز ہونے کے امکانات پیدا ہو جائیں گے. 

آئیے!
مل کر نہیں کی اس دیوارِ برلن کو توڑ ڈالیں. اور ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھیں. 

بدھ، 6 مئی، 2015

میں ایک فیس بکی دانشور ہوں

مجھ سے ملئے... 
میں ہوں فیس بک دانشور... 
میری معلومات کا اصل منبع سوشل میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا... 
اور چند من پسند کالم نگاروں کے کالم
مصروفیات کی بدولت کتب بینی جیسا فضول مشغلہ میں وقت ضائع نہیں کرتا. 
مجھے شعر و شاعری سے بہت رغبت ہے 
جو شعر نظر آتا ہے، ضرور شئر کرتا ہوں... 
اگر اقبال کا نام ساتھ لگا ہو تو عقیدت سے شئر کرتا ہوں 
شعر کی تصدیق کے لیے وقت نہیں ہوتا، اقبال کا پیغام جلد از جلد آگے پہنچنا چاہئیے. 
شعر و شاعری سے رغبت ہو اور عشق مجازی کا ذکر نہ ہو؟ 
 لہٰذا ادھ موئی لڑکیوں کی تصاویر کے ساتھ ادھ موئے شعر میری وال کو ادب کا شاہکار بنا دیتے ہیں. 

الحمدللہ، مسلمان ہوں... 
لہٰذا کوئی بھی حدیث نظر سے گزرے تو فوراً سے پہلے شئر کرتا ہوں، اب تحقیق میں وقت ضائع کر کے چند منٹ کے ثواب سے کیونکر محروم رہوں. 

کچھ بد ذوق اور گستاخ قسم کے لوگ ریفرینس مانگتے ہیں، اب بھلا اچھی بات کے لیے بھی کسی ریفرینس کی ضرورت ہوتی ہے؟ ہنھ

میں بڑا "آؤٹ سپوکن" ہوں. دوسروں کی خامیوں پر کڑی نظر رکھتا ہوں. اور کسی کا لحاظ نہیں کرتا. 
روز کسی نہ کسی کو لتاڑنے اور اس کا کردار دنیا کے سامنے لانے کا موقع مل جاتا ہے. 
اور اگر کوئی میری کوئی خامی نکالتا ہے... 
تو تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب کے مصداق
دو چار پوسٹس میں ہی اس کی ہوا اکھاڑ دیتا ہوں. 

اور چونکہ میرا پیغام لوگوں تک پہنچنا بہت ضروری ہے، لہٰذا ہر پوسٹ میں آدھی فرینڈ لسٹ کو ٹیگ کرتا ہوں. اور جتنے گروپس کا ممبر ہوں، ان سب پر بھی پوسٹ کرتا ہوں.

اور چونکہ میرے پاس کیمرے والا فون ہے، تو مجھے  فوٹو گرافر بننے سے کون روک سکتا ہے. 
میری پروفائل پر "random" کے نام سے ایک البم ہے، جہاں ایک منظر کے لیے کھینچی گئی سو سو تصاویر میں سے منتخب کردہ ایک ایک تصویر موجود ہے. 
اور اللہ نے حسن دیا ہے تو نزاکت آ ہی جاتی ہے
لہٰذا ایک البم میری "خود نمائی" پر بھی مشتمل ہے. 

اب چونکہ میں اپنی حیثیت ایک دانشور کے طور پر "منوا" چکا ہوں. تو ایک فین پیج بھی بنا لیا ہے. بہت رونق لگی رہتی ہے. لائکس کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے. 
اور میری طرح کے دوسرے دانشور اور ادبی ذوق رکھنے والے احباب میری پوسٹس کو کافی عقیدت سے شئر کرتے ہیں. 

آخر میں میری اقبال سے عقیدت کے اظہار کے لیے یہ شعر، جو میں نے کل ہی دیکھا
لوگ کہتے ہیں کہ بس فرض ادا کرنا ہے 
ایسا لگتا ہے کوئی قرض لیا ہو رب سے

اس پر بھی کچھ گستاخ شور مچانے آ گئے تھے کہ اقبال کا شعر نہیں ہے. اب اتنا اسلامی شعر اقبال کے علاوہ کس کا ہو سکتا ہے؟ 

اجازت چاہتا ہوں، شام کا وقت ہے، کچھ شاعری ہو جائے، اس وقت زیادہ شئر ہوتی ہے. 

میرا فین پیج لائک کرنا نہ بھولیں. 

آپ کا بھائی، فیس بکی دانشور