منگل، 6 اپریل، 2021

حمد (آیت الکرسی کا منظوم مفہوم)

0 تبصرے
 حمد
(آیت الکرسی کا منظوم مفہوم)
٭
وہ ہے اللہ، یکتا و تنہا خدا
ہے نہیں کوئی معبود اُس کے سوا
وہ ہے زندہ سدا، سب سنبھالے ہوئے
جو کہ سوتا نہیں اور نہ ہے اونگھتا
ہے اُسی کا جو کچھ آسمانوں میں ہے
اور زمیں میں بھی سب کچھ ہے اللہ کا
کون ہے جو کسی کی شفاعت کرے
سامنے اُس کے، اُس کی اجازت بنا
جانتا ہے وہ، جو سامنے سب کے ہے
اور اُس سے بھی واقف ہے، جو ہے چھپا
علم حاصل نہ کوئی ذرا کر سکے
پر وہی علم، جتنا کہ چاہے خدا
آسمانوں پہ اور کرۂ ارض پر
چار سُو ہے محیط، اقتدارِ خدا
پاسبانی سے اِن کی وہ تھکتا نہیں
وہ ہے سب سے بلند اور سب سے بڑا
٭٭٭
محمد تابش صدیقی

جمعہ، 19 مارچ، 2021

حمد: خالقِ کن فکاں، مالکِ دو جہاں

0 تبصرے
 خالقِ کن فکاں، مالکِ دو جہاں
کوئی کیسے کرے حمدِ کامل بیاں

یہ زمین و زماں، یہ مکاں لامکاں
تیرے جلووں کی پیہم نمائش یہاں

رنگ تیرے ہی بکھرے کراں تا کراں
برگ و بار و حجر، ریگ و آبِ رواں

تیری ہی کبریائی کا اعلان اذاں
ہے ترا ذکر ہی ہر گھڑی، ہر زماں

چاند، سورج، ستاروں بھری کہکشاں
ہے تری آیتوں سے بھرا آسماں

ہے خدائی تری موسموں سے عیاں
ہو وہ گرما و سرما، بہار و خزاں

تو جو چاہے، برسنے لگیں بدلیاں
تو نہ چاہے تو پیاسا رہے ہر کنواں

تیری قدرت کہ پیدا کیے انس و جاں
آگ، پانی، ہوا اور مٹی سے یاں

تیری رحمت سے وہ ہو گئے بے نشاں
آئے رستے میں جو سنگ ہائے گراں

ہے سبق یہ ہی قرآن میں بے گماں
صرف تیری رضا ہے کلیدِ جناں

کامیابی اِسی میں ہے تابشؔ نہاں
ذکر ہر دم اُسی کا ہو وردِ زباں
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

جمعرات، 11 مارچ، 2021

غزل: جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایا

0 تبصرے
 جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایا
ہر نیا زخم ہے اب میرے بدن پر پھایا

شمعِ احساس کو ہے ایک شرر کی حسرت
بے حسی کا ہے گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا

میں کہ تھا حسنِ رخِ یار کے دیدار سے خوش
میرا خوش رہنا بھی اک آنکھ نہ اُس کو بھایا

اب تو ہر شخص نظر آتا ہے مجھ سے بہتر
جب سے اپنے بُتِ پندار کو میں نے ڈھایا

جب بھی ناکام ہوا میں، تو پکارا اس کو
اس نے الجھا ہوا ہر کام مرا سلجھایا

وادیِ عشق کا رستہ بھی ہے منزل تابشؔ
میں نے دل کو ہے بہت بار یہی سمجھایا

٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

منگل، 23 فروری، 2021

غزل: زمانے سے اخلاق و کردار گم ہے

0 تبصرے
 زمانے سے اخلاق و کردار گم ہے
ہوس اور مطلب میں ایثار گم ہے

شجر کی جگہ جب سے لی ہے حجر نے
اب آنگن سے چڑیوں کی چہکار گم ہے

میں عدسہ اٹھا کر خبر ڈھونڈتا ہوں
کہ اب اشتہاروں میں اخبار گم ہے

ہوا بے وفائی کی ایسی چلی ہے
وفا کی طلب ہے، وفادار گم ہے

بچائے کوئی ناخدا بھی تو کیسے
کہ امت کی نیّا کی پتوار گم ہے

ہوئی بزدلی رہنماؤں پہ طاری
کہ سر تو سلامت ہے، دستار گم ہے

نہیں کوئی جو ظلم کو ظلم کہہ دے
زبانیں ہیں موجود، اظہار گم ہے

بنی زندگی دوڑ سرمایے کی اب
زیادہ کی خواہش میں معیار گم ہے

سرابوں کے ہم ہیں تعاقب میں تابشؔ
ہمارے یہاں چشمِ بیدار گم ہے

٭٭٭
محمد تابش صدیقی​