پیر، 12 اکتوبر، 2026

گھر سے کام یا گھر کے کام

0 تبصرے



گھر سے کام یا گھر کے کام

کرونا کی وبا نے جو چند انقلابات برپا کیے، ان میں سے ایک گھر سے کام کی سہولت تھی، جو وبا گزر جانے کے بعد بھی جوں کی توں نہ صحیح، مگر برقرار ہے۔

یہ انقلاب ملازمت پیشہ افراد کے لیے کسی خوش خبری سے کم نہ تھا۔ نہ صبح سویرے اٹھنے کی فکر، نہ ٹریفک کا عذاب، نہ پٹرول کا خرچ، نہ وقت پر دفتر پہنچنے کی پریشانی۔ آخر کون عقل مند شخص اس سہولت سے انکار کر سکتا تھا کہ بستر سے اٹھ کر چند قدم چلنے پر دفتر پہنچ جائے!

البتہ رفتہ رفتہ معلوم ہوا کہ بستر سے دفتر پہنچنا تو واقعی بہت آسان ہے، مگر دفتر سے واپس گھر آنا خاصا دشوار ہو گیا ہے۔

پہلے صبح دفتر جاتے تھے اور شام کو گھر واپس آ جاتے تھے۔ اب صبح دفتر شروع ہوتا ہے، شام کو دفتر ختم ہونے کا ارادہ کرتا ہے، اور رات کو کوئی ضروری میٹنگ اس ارادے کو ملتوی کر دیتی ہے۔

گھر سے کام کرنے والوں کا ایک بڑا مسئلہ گھر والوں کو یہ باور کرانا ہے کہ گھر میں موجود ہونے اور فارغ ہونے میں فرق ہوتا ہے۔

گھر والوں کے نزدیک گھر میں موجود ہونا اس بات کی کافی دلیل ہے کہ آدمی دستیاب ہے۔ دوسری جانب دفتر والوں کا خیال ہے کہ چونکہ آدمی گھر پر ہے، اس لیے دستیاب ہے۔

یوں دونوں فریق اس ایک نکتے پر متفق ہیں کہ آدمی دستیاب ہے۔ اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ کس کے لیے!

گھر سے کام نے گھریلو ذمہ داریوں میں بھی خاصا اضافہ کیا ہے۔ پہلے دفتر میں بیٹھے ہوئے آدمی کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا تھا کہ گھر میں دودھ ختم ہو گیا ہے، سبزی لانی ہے، پانی کی موٹر چلانی ہے یا دروازے پر کون آیا ہے۔ اب چونکہ آدمی گھر میں موجود ہے، اس لیے ان تمام معاملات میں اس کی خدمات حاصل کرنا عین قرینِ انصاف سمجھا جاتا ہے۔

چنانچہ کبھی سودا سلف منگوانا ہوتا ہے، کبھی پارسل وصول کرنا، کبھی خراب واشنگ مشین دیکھنی ہوتی ہے اور کبھی کسی گھریلو مسئلے کا فوری حل تلاش کرنا پڑتا ہے۔ کبھی عین میٹنگ کے درمیان بلکتا ہوا بچہ گود میں لا کر ڈال دیا جاتا ہے کہ بیٹھے ہی ہو تو اس کو بھی دیکھ لو ۔

ان تمام کاموں کی مشترک خصوصیت یہ ہے کہ ہر کام میں صرف دو منٹ لگنے ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان دو منٹوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ دن کے اختتام پر حساب لگانا پڑتا ہے کہ دفتری کام زیادہ کیا یا گھریلو۔

یوں ایک ہی شخص بیک وقت دو اداروں میں خدمات انجام دے رہا ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک ادارہ تنخواہ دیتا ہے اور دوسرا تنخواہ کے خرچ کا حساب رکھتا ہے۔

اور اگر کبھی دونوں طرف سے کوئی کام فوری اور نہایت ضروری قرار پائے تو ترجیحات کا تعین خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔ دفتری کام ملتوی کرنے سے سالانہ کارکردگی رپورٹ متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، جبکہ گھریلو کام ملتوی کرنے سے روزانہ کی کارکردگی رپورٹ!

ورک فرام ہوم نے لباس کے معاملے میں بھی خاصی آسانیاں پیدا کی ہیں۔ پہلے دفتر جانے کے لیے مکمل تیاری کرنا پڑتی تھی۔ اب صرف اس حصے کی تیاری کافی ہے جو کیمرے میں نظر آتا ہے۔ اس تبدیلی سے کپڑا سازی کی صنعت پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں، اس بارے میں تو کوئی مستند تحقیق نظر سے نہیں گزری، البتہ استری کی اہمیت میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔

میٹنگ بھی ورک فرام ہوم کا ایک لازمی جزو ہے۔

پہلے کسی مسئلے پر گفتگو کی ضرورت ہوتی تھی تو میٹنگ بلائی جاتی تھی۔ اب میٹنگ بلانے کے لیے کسی مسئلے کی ضرورت نہیں، مسئلہ بعد میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔

دن کا آغاز ڈیلی اسٹینڈ اَپ سے ہوتا ہے، جس میں سب لوگ بیٹھ کر بتاتے ہیں کہ کل کیا کیا تھا اور آج کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پھر مزید میٹنگز میں ان ارادوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

یوں کبھی کبھی کام نہ ہونے کی وجوہات پر اتنا کام ہو جاتا ہے کہ اصل کام کے لیے وقت ہی نہیں بچتا۔

پہلے کام کے دوران میٹنگ کے لیے وقت نکالنا پڑتا تھا، اب میٹنگز کے درمیان کام کے لیے وقت نکالنا پڑتا ہے۔

دفتری اوقات کا معاملہ بھی دلچسپ ہے۔ پہلے آٹھ گھنٹے کام کرنے کا اصول تھا۔ اب لچک دار اوقاتِ کار متعارف ہوئے ہیں۔ اس لچک کا فائدہ یہ ہے کہ کام صبح بھی کیا جا سکتا ہے، دوپہر بھی، شام بھی اور رات کو بھی۔

نقصان صرف اتنا ہے کہ عموماً ان چاروں اوقات میں کام کرنا پڑتا ہے۔

چھٹی والے دن بھی کبھی کوئی ایسا کام نکل آتا ہے جس کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ صرف پانچ منٹ درکار ہوں گے۔ یہ پانچ منٹ بھی عجیب شے ہیں۔ دفتری لغت میں ان کی مدت عام گھڑیوں کے پانچ منٹ سے خاصی مختلف ہوتی ہے۔

آج کل ادارے ورک لائف بیلنس پر بھی خاصی توجہ دے رہے ہیں۔ اس موضوع پر آگاہی کے لیے باقاعدہ نشستیں اور میٹنگز منعقد کی جاتی ہیں۔

یہ یقیناً ایک خوش آئند رجحان ہے۔ البتہ ورک لائف بیلنس کے موضوع پر دفتری اوقات کے بعد ہونے والی میٹنگز میں شرکت کرتے ہوئے اس اصطلاح کا مفہوم سمجھنا قدرے دشوار ہو جاتا ہے۔

اور شاید ورک فرام ہوم کا سب سے بڑا مسئلہ بھی یہی ہے کہ دفتر گھر میں تو آ گیا ہے، مگر گھر کو دفتر سے واپس لینے کا کوئی انتظام ہو بھی سکے گا یا نہیں۔