skip to main
|
skip to sidebar
لاگ ان
تابشیں --- Tabishain
خیالات، احساسات، مشاہدات، تجربات
موضوعات
شاعری
کچھ میرے بارے میں
تابشیں
میرا مکمل پروفائل دیکھیں
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
منگل، 27 فروری، 2018
مختصر نظم: خواب
تابشیں
8:25 AM
0 تبصرے
مختصر نظم: خواب
٭
زندگی کے کینوس پر
خواہشوں کے رنگوں سے
خواب کچھ بکھیرے تھے
وقت کے اریزر نے
تلخیوں کی پت جھڑ میں
سب کو ہی مٹا ڈالا
٭٭٭
محمد تابش صدیقی
0 تبصرے :
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
<<< پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ >>>
<سرِورق>
زیادہ بار پڑھی گئی تحاریر
غزل: لوگ خوش ہیں کہ سال بدلے گا
لوگ خوش ہیں کہ سال بدلے گا کیا ہمارا یہ حال بدلے گا؟ ہو گئے ہر ستم کے ہم عادی اب تو ظالم ہی چال بدلے گا دل بدلتا نہیں ہے کہنے ...
سفر نامۂ حرمین شریفین بسلسلۂ ادائیگی عمرہ٭ کچھ یادداشتیں
اس بات پر یقین تو پہلے ہی تھا کہ انسان کے ذمہ تدبیر اور کوشش ہے، کام کا ہونا یا نہ ہونا اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے۔ نیت خالص ہو تو پھر چاہے ت...
میں ایک فیس بکی دانشور ہوں
مجھ سے ملئے... میں ہوں فیس بک دانشور... میری معلومات کا اصل منبع سوشل میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا... اور چند من پسند کالم نگاروں کے ...
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آج کے اس ہما ہمی اور نفسا نفسی کے دور میں اخلاص ڈھونڈے نہیں ملتا۔ کسی کی پریشانی پر دکھ اور افسوس کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا پر چند جملے...
نظم: ام الکتاب (سورۃ الفاتحہ کا منظوم مفہوم)
ام الکتاب سورۃ الفاتحہ کا منظوم مفہوم ٭ لائقِ ہر ثنا، مالکِ دوجہاں تو بڑا مہرباں، تیری رحمت رواں بادشاہی بچے گی تری ہی یہاں ...
نعتیہ دوہے
محترمی شاکر القادری صاحب کی تحریک پر لکھے گئے۔ دل کے اندر میل ہے، کیسے لکھوں نعت دو مصرعے بھی محال ہیں، اتنی ہے اوقات ٭ غافل...
غزل: زمانے سے اخلاق و کردار گم ہے
زمانے سے اخلاق و کردار گم ہے ہوس اور مطلب میں ایثار گم ہے شجر کی جگہ جب سے لی ہے حجر نے اب آنگن سے چڑیوں کی چہکار گم ہے میں عدسہ اٹھا کر خب...
آپ کا آج کا دن (Your day in review)
گوگل نے کچھ عرصہ سے ہر ماہ ایک میل کے ذریعے گذشتہ ماہ کی مختصر تفصیل بھیجنی شروع کی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ کچھ عرصہ میں روزنامچہ بھی بھیجنا شر...
غزل: خالق سے رشتہ توڑ چلے
خالق سے رشتہ توڑ چلے ہم اپنی قسمت پھوڑ چلے طوفان کے آنے سے پہلے ہم اپنے گھروندے توڑ چلے کچھ تعبیروں کے خوف سے ہی ہم خواب ادھورے چھوڑ چلے ا...
غزل: آرزوؤں کا شجر اک ہم کو بونا چاہیے
آرزوؤں کا شجر اک ہم کو بونا چاہیے زندہ رہنے کے لیے اب کچھ تو ہونا چاہیے ضبطِ پیہم سے کہیں پتھر نہ ہو جائے یہ دل صبر اچھی شے ہے لیک...
موضوعات
شاعری
محفوظات
◄
2022
( 1 )
◄
ستمبر
( 1 )
◄
2021
( 7 )
◄
اپریل
( 1 )
◄
مارچ
( 2 )
◄
فروری
( 3 )
◄
جنوری
( 1 )
◄
2020
( 7 )
◄
دسمبر
( 3 )
◄
اکتوبر
( 1 )
◄
اپریل
( 1 )
◄
جنوری
( 2 )
◄
2019
( 11 )
◄
ستمبر
( 1 )
◄
جون
( 1 )
◄
مئی
( 2 )
◄
اپریل
( 7 )
▼
2018
( 14 )
◄
ستمبر
( 1 )
◄
مارچ
( 1 )
▼
فروری
( 12 )
مختصر نظم: خواب
نظم: ایک مجبور مسلمان کی مناجات
غزل: خالق سے رشتہ توڑ چلے
غزل: وہی صبح ہے، وہی شام ہے
غزل: وفا کا اعلیٰ نصاب رستے
غزل: جو ہونا ہم فقیروں سے مخاطب
غزل: زعم رہتا تھا پارسائی کا
غزل: بات جو کہنی نہیں تھی کہہ گئے
غزل: اِلٰہی عَفو و عطا کا تِرے اَحَق ہوں میں
غزل: یونہی مایوس رہتا ہوں، اِسی میں ہے خوشی میری
غزل: مثلِ خورشید وہ ابھرتے ہیں
نعتیہ دوہے
◄
2017
( 2 )
◄
نومبر
( 1 )
◄
مئی
( 1 )
◄
2016
( 2 )
◄
مئی
( 1 )
◄
مارچ
( 1 )
◄
2015
( 5 )
◄
ستمبر
( 1 )
◄
جون
( 1 )
◄
مئی
( 3 )
0 تبصرے :
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔