بدھ, ستمبر 2, 2015

نفاذ اردو اور انگریزی اصطلاحات

جب بھی کبھی اردو کے نفاذ کی بات آتی ہے، ایک موضوع جو بڑی شد و مد کے ساتھ سر اٹھاتا ہے وہ مختلف انگریزی اصلاحات و الفاظ کے اردو ترجمے کا ہے. 

اور ہم سب ایسے الفاظ کے لیے بالجبر کوئی نہ کوئی اردو لفظ ڈھونڈنے میں لگ جاتے ہیں اور نہ ملنے کی صورت میں اردو کو نا مکمل سمجھنا شروع کر دیتے اور ان الفاظ کا ترجمہ ہونا ضروری سمجھنے لگتے ہیں. 

اصطلاحات ہمیشہ جس زبان میں ایجاد ہوئی ہوتی ہیں، عموماً اسی طرح یا زبان کی ضروریات کے مطابق معمولی رد و بدل کے ساتھ ہر زبان کی لغت کا حصہ بن جاتی ہیں. 

مثال کے طور پر بہت سی سائنسی اصطلاحات یونانی زبان میں وجود میں آئیں، وہ ابھی تک انگریزی میں بھی مستعمل ہیں. 

بہت سی علمی اصطلاحات جو عربی میں وجود میں آئیں، وہ انگریزی میں اسی طرح یا معمولی رد و بدل کے ساتھ مستعمل ہیں. مثلاً الجبرا، کیمسٹری (کیمیاء) وغیرہ. 

ایسے الفاظ جن کا اردو متبادل موجود تو ہو، لیکن معدوم ہو چکا ہو، اسے از سر نو زندہ کرنے کی ضرورت ہے. 

ایسے انگریزی الفاظ جو اب روزمرہ اردو بول چال کا حصہ بن چکے ہیں، ان کو اردو لغت کا حصہ بنا لینا چاہیے. 

اور ایسی اصطلاحات، جو اردو میں موجود نہیں ہیں، ان کو بھی بعینہ لغت میں شامل کر لینا چاہیے. 

ضروری نہیں ہے کہ ہر لفظ اور اصطلاح لازمی ترجمہ کر کے لغت میں شامل کی جائے. 
مثلاً فیسبک، ٹویٹر اور ان میں استعمال ہونے والی دیگر اصطلاحات کا ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے. 
فیسبک ایک اسم ہے. اس کو لغوی معنوں میں ترجمہ کر کے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے. 

اس طرح کی لا حاصل مباحث اور کوششیں اردو کے نفاذ کو اور مشکل بنا دیتی ہیں. 

اردو زبان آسان اور دیگر زبانوں کے الفاظ کو قبول کرنے والی زبان ہے. لہٰذا جو انگریزی الفاظ اور اصطلاحات روزمرہ اردو میں مستعمل ہیں، انہیں تبدیل کرنے کی پریشانی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے. 

4 تبصرے:

  1. محترمی تابش صاحب۔
    اردو میں اصطلاحات سازی اور اصطلاحات کے ترجمے پر بہت کچھ کام ہو چکا ہے اور اللہ کے کرم سے سارا کام محفوظ ہے۔ مسئلہ ایک تو اس سے استفادہ کرنے کا ہے، اور ایک عجیب سا رویہ بھی کہ ایک بات اگر میرے علم میں نہیں ہے تو میں فرض کر لیتا ہوں کہ اس کا وجود ہی نہیں ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ میں (یعنی ایک عام آدمی) اپنی زبان کو خود ہی کم تر قرار دے دیتا ہوں یا سمجھ لیتا ہوں اور کسی دوسری زبان سے اینویں ای مرعوب ہو جاتا ہوں۔ پھر رولا بن جاتا ہے۔ ویسے بھی زبانیں الفاظ اور لغات کے زور پر نافذ نہیں ہوا کرتیں، بلکہ اپنے بولنے والوں قوم کی قوتِ عمل اور اثر و رسوخ کے زور پر نافذ ہوا کرتیں ہیں۔ اس کے ہزاروں میدان اور لاکھوں پہلو ہو سکتے ہیں۔
    امید ہے آپ اتفاق کریں گے۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. مکمل اتفاق ہے استادِ محترم۔
      اور بے حد ممنون ہوں کہ آپ نے میری تحریر کے لئے وقت نکالا۔

      حذف کریں
  2. انگریزی ہو، پرتگالی ہو، ترکی ہو، کوئی سی زبان ہو؛ ان زبانوں سے آئے ہوئے جو الفاظ قبولِ عام کا درجہ پا چکے ہیں اس پر خطِ تنسیخ پھیرنا قطعی غیرضروری بلکہ اپنی توانائیاں ضائع کرنے کا عمل ہو گا، ان کو چلنے دیجئے۔ ساتھ ہی ساتھ اپنے علمی ورثے کی بازیافت اور اس کی تشہیر و ترویج کا کام کیجئے۔
    ہماری زبان بانجھ نہیں ہے اور نہ کنگال ہے۔ بات ساری ترجیحات کی ہے۔ اردو نافذ کرنی ہے تو اسے ترجیحات میں سرِ فہرست لانا ہو گا۔ بات صرف اتنی سی ہے، ویسے اس کو "اتنی سی" کہنا بھی کچھ جچتا نہیں ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. جی، اصل مسئلہ ترجیح کا ہی نظر آ رہا ہے۔

      حذف کریں