منگل, نومبر 28, 2017

سفر نامۂ حرمین شریفین بسلسلۂ ادائیگی عمرہ٭ کچھ یادداشتیں

اس بات پر یقین تو پہلے ہی تھا کہ انسان کے ذمہ تدبیر اور کوشش ہے، کام کا ہونا یا نہ ہونا اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے۔ نیت خالص ہو تو پھر چاہے تدبیر اور کوشش میں کوئی کمی کوتاہی موجود بھی ہو، اللہ تعالیٰ مراحل میں آسانی فرما دیتا ہے۔

شاید ہی کوئی مسلمان ایسا ہو کہ جس کے دل میں حرمین کی حاضری کا شوق اور خواہش نہ موجود ہو۔ مگر ہوتا یوں ہے کہ تمام تر خواہش ہونے کے باوجود کبھی دنیاوی خواہشات، کبھی بیماری اور لاچاری حائل آ جاتی ہے، وار انسان خواہش سے آگے نہیں بڑھ پا رہا ہوتا۔ ہمارامعاملہ بھی کچھ اس قسم کا ہی تھا کہ شدید خواہش ہونے کے باوجود کبھی صحت، کبھی بجٹ، کبھی چھوٹے بچوں کا خیال کسی عملدرآمد کی طرف بڑھنے سے روک دیتا تھا۔ کہ پہلے ذرا معاشی حالات سنبھل جائیں، پہلے ذرا صحت کے مسائل کچھ کم ہو جائیں، پہلے ذرا بچے بڑے ہو جائیں۔

ہمارے دفتر میں ہر سال سالانہ تقریب کے موقع پر عمرہ کے لیے قرعہ اندازی کی جاتی ہے۔ جو پہلے دو افراد کے لیے اور اب گذشتہ دو سالوں سے چار افراد کے لیے ہوتی ہے۔ اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے قرعۂ فال میرے نام بھی نکلا۔

اس وقت کی کیفیت کو بیان کرنے سے بہرحال قاصر ہوں کہ ابھی تک سمجھ نہیں آ سکا کہ وہ خوشی کی کیفیت تھی، یا ندامت کی کیفیت تھی۔ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کے شکر کی کیفیت تھی یا اس رحمت کے سامنے اپنے کھوٹے اعمال دیکھ کر شرم سے گڑھ جانے والی کیفیت تھی۔ ایک اور احساس جو بڑی شدت کے ساتھ اجاگر ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے رحمت ، دراصل ایک بہت بڑی آزمائش بھی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے سدھرنے کا ایک اور موقع ہوتا ہے۔ کبھی دے کر آزماتا ہے، کبھی لے کر آزماتا ہے۔

ایکسیڈنٹ ہوتا ہےاور انسان موت کے منہ سے واپس آ جاتا ہے، یہ لو ایک اور زندگی، سدھر جاؤ۔ کچھ دن کے بعد زندگی اسی معمول پر واپس۔ انفرادی و اجتماعی اعمال میں غفلت، حقوق العباد میں کوتاہی۔
انسان بیمار ہوتا ہے، سرجری کروانی پڑ جاتی ہے۔ تنبیہ ہوتی ہے کہ ابھی بھی وقت ہے، سدھر جاؤ۔ اس سے پہلے کہ مہلتِ عمل ختم ہو جائے۔ کچھ عرصہ کے لیے محتاط اور خوفِ خدا والی زندگی۔ وقت کے ساتھ ساتھ پھر وہی روٹین۔
معاشی حالات میں تنگی آ جاتی ہے۔ پھر تنبیہ ہوتی ہے کہ اپنے آپ کو عقلِ کل نہ سمجھو، مجھ پر بھروسہ کرو۔ میری طرف پلٹ آؤ۔ انسان کو اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے، اپنے رب کی جانب واپس پلٹتا ہے۔ ذرا حالات بہتر ہوتے ہیں، پھر اسی دنیا میں مگن ہو جاتا ہے۔
رمضان میں اعتکاف میں بیٹھنے کا موقع فراہم کر دیتا ہے۔ کہ لو دس دن ہیں، ذرا دل کا میل صاف کر لو، بھولا ہوا سبق یاد کر لو۔ جتنا قریب آ سکتے ہو آ جاؤ۔ انسان پھر پلٹتا ہے، گن گن کے تمام کوتاہیاں یاد کر کے ان کو چھوڑنے کا اعادہ کرتاہے۔ مگر ارادے کا اتنا کمزور کہ کچھ عرصہ بعد زندگی پھر وہی غفلت اور کوتاہیوں سے عبارت۔
اچانک در پر حاضری کا حکم ہو جاتا ہے۔ آ جاؤ میرے گھر، ایک اور موقع دے رہا ہوں۔ مجھ سے کچھ کہنا ہے تو کہو۔ رحمتوں کی بارش ہے، سمیٹ سکتے ہو تو سمیٹ لو۔ تمہارے اختیار میں ہے، چاہے تو چکنا پتھر بن جاؤ، جس پر پڑنے والی بارش اس پر کچھ اثر کیے بغیر بہہ جاتی ہے۔ چاہے تو زرخیز مٹی بن جاؤ،جو بارش پڑنے پر سونا اگلتی ہے۔
پچھلی تمام آزمائشوں پر اپنا طرزِ عمل آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ ندامت کا اثر گہرا ہو جاتا ہے۔ دعا نکلتی ہے
اے خدا! دل کی زمیں زرخیز کر
ابرِ رحمت تو برس کر بہہ گئے
جتنی بڑی رحمت اتنی بڑی آزمائش۔ ایک خوف کہ کہیں اتمامِ حجت تو نہیں کی جا رہی؟ اور ایک امید کہ ہدایت کی راہ ابھی بھی کھلی ہے۔

اب بلاوا آ گیا ہے تو پھر انتظار کس بات کا۔ ایک دوست جو ٹریولنگ ایجنسی میں کام کرتے ہیں، ان سے مشورہ لیا، تو انہوں نے مکمل پلان ہی بنا کر ہاتھ میں تھما دیا۔ کمپنی کی جانب سے دو افراد کے عمرہ پیکج کے مطابق اماؤنٹ دی گئی۔ بچوں کو لے جانے کے حوالے سے بہت لوگوں نے مشورہ دیا کہ چھوڑ کر جاؤ، صحت کا مسئلہ بھی ہے، کیسے سنبھالو گے۔ مگر ایک تو بیٹا خاص طور پر ابھی بہت چھوٹا ہے۔ دوسرا یہ احساس کہ اللہ نے حاضری کا موقع دیا ہے تو بچے کیوں محروم رہ جائیں۔ ہمت کر کے بچوں کے ساتھ ہی جانے کا منصوبہ بنا لیا۔ اور دوست نے ضروریات کے مطابق بجٹ کے اندر اچھا پیکیج بنا دیا۔ فوری طور پر پاسپورٹ بنوائے۔

حج کے بعد یوں سمجھ لیں کہ ابھی دوبارہ عمرہ ٹریول کا سلسلہ شروع ہی ہوا تھا۔ اور سعودی ایمبیسی کے کچھ مسائل اور کچھ پالیسیوں کے تبدیل ہونے کے سبب ویزا کے مسائل شروع ہو گئے۔ایک تو یہ کہ ویزا صرف کراچی سے لگ رہا تھا، اور پراسسنگ بھی کافی سلو تھی۔ کتنے ہی لوگ وقت پر ویزا سٹیمپ ہو کر نہ آنے کے باعث نہ جا سکے۔ ائر ٹکٹ ضائع ہو گئے۔ اس دوران دوست سے مکمل رابطہ میں رہا، وہ دعا کرنے کا کہتا رہا۔ اللہ کے فضل سے جس صبح روانہ ہونا تھا، اس سے قبل شام مغرب کے وقت دوست کی کال آئی کہ آپ کے ویزے آ گئے ہیں، آ کر لے جائیں۔ جان میں جان آئی۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ معلوم ہوا کہ ایسا بھی ہوا کہ کسی کے نو ویزے تھے تو آٹھ سٹیمپ ہو کر آ گئے، ایک رہ گیا۔ ہمارے چاروں پاسپورٹ الحمد لله اکٹھے آ گئے تھے۔

29 اکتوبر 2017ء صبح پی۔ آئی۔ اے۔ کی 7 بجے کی پرواز سے عمرہ کے لیے روانہ ہوئے۔ احرام ائرپورٹ پر فجر کے بعد باندھ لیا تھا۔ 5 گھنٹے کے سفر کے بعد سعودی عرب کے وقت کے مطابق 10 بجے جدہ ائرپورٹ پر لینڈ کیا۔ وہیں سے موبائیلی کی انٹرنیٹ پیکج والی سم خریدی اور مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ سوا سے ڈیڑھ گھنٹے میں مکہ پہنچ گئے۔ مکہ پہچ کر معلوم ہوا کہ مکہ تو سارا ہی پہاڑی علاقہ ہے۔ جابجا بچھے سرنگوں کے جال نے بہت محظوظ کیا۔

پھر مکہ ٹاور نظر آیا تو منزل قریب ہونے کا خوش کن احساس ہوا۔ مکہ پہنچ کر ہوٹل میں اپنے کمرے تک پہنچتے عصر کا وقت ہو گیا۔


ہوٹل سے نکل کر معلوم کیا تو سامنے گلی میں ہی ایک پاکستانی کھانوں کا مرکز تھا۔ وہاں سے کھانا کھایا اور پیدل مسجد الحرام کی طرف روانہ ہوئے۔ ہوٹل مسجد سے 500 میٹر کے فاصلے پر تھا۔ مگر بابِ مروہ کی جانب تھا، اس لیے مسجد کی حدود کے اندر بھی کافی فاصلہ طے کرنا پڑا۔ وہ مرحلہ بھی آ گیا جس کے عرصہ سے منتظر تھے۔ نگاہوں کے سامنے خانۂ خدا موجود تھا۔

 دعا مانگنا تو بھول ہی گیا، بس یک ٹک دیکھے گیا۔ تصور اور سامنے موجود ہونے کا فرق عیاں ہو گیا۔ تھوڑی دیر میں مغرب کی اذان ہو گئی۔ نگاہوں میں کعبہ لیے پہلی نماز ادا کی۔ کیفیت بیان نہ کر سکوں گا۔ مغرب سے عشاء کا وقت مسجد کے راستوں کو سمجھنے میں لگا۔ عشاء کے بعد عمرہ کے مراحل شروع کیے۔

مسجد میں جاری تعمیراتی کام کی وجہ سے صحن کے مطاف کی طرف جانے والے تمام راستے مسدود تھے۔ 

صرف ایک راستہ کھلا تھا، جو ہمیں اس دن معلوم نہ ہو سکا۔ لہٰذا پہلی منزل پر طواف کیا۔ پہلے یہ فیصلہ کرنے میں مشکل پیش آ رہی تھی کہ بچوں کے ساتھ طواف کس طرح کیا جائے۔ یا تو باری باری کر لیا جائے، ایک بندہ بچوں کو سنبھالے اور دوسرا طواف کر لے۔ مگر پھر بچوں کا طواف رہ جائے گا۔ گود میں اٹھا کر طواف کرنا ہمارے لیے امرِ محال تھا۔ پہلے ہی بہت زیادہ چلنے پھرنے کے سبب کچھ تھکاوٹ موجود تھی۔ ایک پاکستانی بھائی ملے تو مشورہ دیا کہ بچوں کے لیے وہیل چیئر لے لیں۔ ایک طرف لوگ وہیل چیئرز لے کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان سے پوچھا تو وہ صرف طواف کے سو ریال مانگ رہے تھے۔ مایوسی کے ساتھ واپس آیا۔ ان صاحب نے پوچھا کیا ہوا؟ میں نے وجہ بتائی تو انہوں نے کہا کہ ان سےنہیں بلکہ دروازے کے پاس مسجد کے لیے وقف وہیل چیئرز موجود ہیں، وہاں سے لے کر آئیں۔ پھر پیدل چل کر گیٹ تک گیا، ان کے پاس وہیل چیئر ختم تھی، پانچ منٹ کے انتظار کے بعد ایک بندہ وہیل چیئر واپس کرنے آیا۔ تو مجھے مل گئی۔دونوں بچوں کو اس پر بٹھا دیا۔ اس طرح ایک بڑا مسئلہ جو بچوں کو اٹھا کر طواف اور سعی کرنے کا تھا، وہ حل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ بہت زیادہ تھک چکنے کے باوجود طواف اور سعی بخوبی مکمل کی۔ جہاں زمزم آتا وہاں خوب پانی اپنے تَلووں پر بہا دیتا تھا۔ تھکن سے چور ہونے کے باوجود ایک اطمینان اور خوشی حاوی تھی کہ عمرہ مکمل ہو گیا۔ واپسی پر ایک ریسٹورنٹ سے کھانا لے کر کھایا اور پھر واپس ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے۔ طواف اور سعی اتنی دشوار نہ لگی تھی، جتنا ہوٹل تک آنا مشکل ہوا۔ پہنچ کر نہا دھو کر سو گئے۔پھر صبح کے وقت صحن میں جانے کا راستہ معلوم ہوا، تو پھر صحن میں ہی طواف کیے۔ پہلے دن اوپر طواف کرتے ہوئے جتنی دیر میں دو چکر لگائے تھے، نیچے صحن میں اتنی دیر میں طواف مکمل ہو گیا۔ مکہ میں موسم گرم ضرور تھا، مگر ایسا ہرگز نہ تھا کہ دوپہر میں باہر نہ نکلا جا سکے۔ ایک دفعہ طواف صحن میں ظہر کے بعد کیا۔


تین راتیں مکہ معظمہ میں گزار کر یکم نومبر 2017ء فجر کے بعد مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے۔ساڑھے پانچ، چھ گھنٹے میں مدینہ پہنچ گئے۔ اس تمام رستے پر آس پاس چٹانیں اور پہاڑ دیکھ کر اور موجودہ وقت میں بنی بہترین روڈ کے باوجود پانچ چھ گھنٹے کا سفر دیکھ کر وہ زمانہ نگاہوں میں گھوم گیا، کہ جب نہ ایسے رستے تھے، نہ ایسی سواریاں۔ اس وقت نبی اکرم ؐ نے کیا کیا تکالیف اس سفر میں نہ اٹھائی ہوں گی؟


مدینہ میں ہمارا ہوٹل مسجد سے 400 میٹر فاصلہ پر تھا۔ عصر سے پہلے مسجد نبویﷺ چلے گئے۔

مین گیٹ سے داخل ہوتے ہی یوں محسوس ہوا کہ کسی تفریحی مقام پر آ گئے ہیں۔ صحن میں ٹولیوں کی صورت میں فیملیز، گروپس بیٹھے، لیٹے ہوئے تھے۔ کھانا کھا رہے تھے۔ 

مسجد الحرام میں تو مرد و خواتین اکٹھے ہی ہوتے ہیں، صرف نماز کے اوقات پر خواتین کے مصلے الگ کر لیے جاتے ہیں۔ مگر یہاں خواتین کے لیے ہال کے کچھ حصے مخصوص ہیں۔ اور ان میں داخلہ سے پہلے صحن کا آدھا حصہ بھی باڑ لگا کر مرد حضرات کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا یہاں مرد و خواتین صرف صحن کے آدھے حصہ میں نماز کے علاوہ اوقات میں اکٹھے بیٹھ سکتے ہیں، اس کے علاوہ خواتین اور مرد الگ ہی ہوتے ہیں۔ ریاض الجنۃ مردوں کے حصہ میں موجود ہے، اس لیے خواتین کے لیے مخصوص اوقات میں کھولا جاتا ہے، اور ساتھ بچے لے کر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

پہلے دن جب داخل ہوئے تو بابِ فہد سے داخل ہوئے، جو مین گیٹ ہے۔

میں سیدھا ہی ہال کی جانب چلا گیا۔ چپل اتار کر وہیں دروازے کے ساتھ موجود ریک میں رکھی اور اندر چلا گیا۔

وہاں موجود افراد سے ریاض الجنۃ کا پوچھا تو معلوم ہوا کہ سیدھا آخر تک جا کر بائیں جانب ہے۔اور وہیں سے ساتھ ہی سلام کے لیے روزہ کی جالیوں کی جانب راستہ جا رہا ہے۔ ریاض الجنۃ میں داخل ہو کر نماز پڑھنے کی حسرت بھی دل میں شدید تھی، لہٰذا اسی وقت وہاں پہنچ گیا۔

کچھ انتظار کے بعد اللہ تعالیٰ نے خواہش پوری فرمائی اور وہاں نوافل ادا کیے، اور سلام کے لیے روزہ کی جانب چل پڑا۔اتفاق سے اس وقت اتنا رش نہ تھا، تو قریب سے روزہ کی زیارت کی اور سلام پیش کیا۔

وہاں رکنے نہیں دیا جاتا اور سامنے دروازہ سے باہر نکلنا ہوتا ہے۔ وہاں سے واپس آنا منع ہے۔ جب باہر نکلا تو یاد آیا کہ جوتے تو دوسرے دروازے پر رکھے تھے ۔ اب وہاں سے جو چلنا شروع کیا ہے، تو مسجد کا آدھا حصہ گھوم کر دوسری جانب آنا پڑا۔ دھوپ کے باعث صحن کا ایک بڑا حصہ تپ رہا تھا۔ صرف سفید سنگ مرر اور چھتریوں کے نیچے والی جگہ پر سکون تھا۔ بہر حال ننگے پاؤں دھوپ میں چلنے کے باعث اس وقت تو تلووں میں کچھ تکلیف محسوس ہوئی، جو بعد میں آبلوں کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ اس کے بعد سے کبھی جوتے اپنے سے الگ نہ کیے، بلکہ شاپر میں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھے۔

ایک احساس جو یہاں آ کر اکثر پیدا ہوا ، وہ یہ کہ جب بھی مسجد نبویؐ میں کہیں بیٹھا ہوتا یا آرام کر رہا ہوتا، تو خیال فوراً نبی اکرمؐ کے زمانے کی طرف جاتا کہ جہاں میں بیٹھا ہوں، اس وقت یہاں کیا ہو گا؟ کیا یہ رستہ ہو گا، یا کسی صحابی کا گھر؟ کیا نبی اکرمؐ یہاں سے گزرے ہوں گے۔ یہ احساسات ریاض الجنۃ میں مزید گہرے ہو جاتے تھے۔ یہ تھی عالمِ اسلام کی پہلی ریاست۔ یہی مسجد عالمِ اسلام کی پہلی پارلیمنٹ تھی، پہلا جی ایچ کیو تھا، پہلی عدالت تھی اور پہلا کمیونٹی سنٹر تھا۔ یہیں قانون سازی ہوتی تھی، یہیں غزوات و سرایا کی منصوبہ بندی ہوتی تھی، یہیں مقدمات کا فیصلہ ہوتا تھا اور یہیں شادی بیاہ کے معاملات بھی ہوتے تھے۔

نمازِ عصر کے بعد مسجدِ نبویﷺ کا ہال ایک جامعہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ہر ستون کے ساتھ ایک استاد بیٹھا ہے۔ کہیں تجوید پڑھائی جا رہی ہے، کہیں حفظ کی کلاسز ہیں، کہیں فقہ پڑھائی جا رہی ہے، کہیں سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹے بچے ناظرہ پڑھ رہے ہیں، کہیں دروس کے حلقے ہیں۔ الغرض ایک ایسا ماحول تھا کہ انسان پر ایک سکینت طاری ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر بچوں کے ناظرہ پڑھنے کی آوازیں، گویا چڑیاں چہچہا رہی ہوں۔

معلوم ہوا کہ آئی ڈی کارڈ پر وہیل چیئر مل جاتی ہے، جب بھی وہیل چیئر واپس کریں، آئی ڈی کارڈ واپس لے لیں۔ اس سے یہ آسانی ہو گئی کہ مدینہ میں گزارے آٹھ دن میں بچوں کے لیے وہیل چیئر ہی استعمال کی، مسجد میں بھی اور ہوٹل بھی وہی لے جاتے تھے۔ جس دن مدینہ سے روانگی تھی، اس دن فجر کے بعد واپس کر آیا۔ گھر سے روانہ ہوتے ہوئے میری بیٹی حفصہ سے پوچھا گیا کہ اللہ کے گھر جا کر کیا مانگو گی، تو جواب آیا کہ ٹافی۔ اور یہاں مسجدِ نبویؐ میں اس کی خواہش بھرپور انداز میں پوری ہوئی۔ ہر تھوڑی دیر بعد کوئی ٹافی دے کر جا رہا ہے، تو کوئی چاکلیٹ۔ کوئی کھجور لا رہا ہے تو کوئی بسکٹ۔ کوئی قہوہ دے کر جا رہا ہے تو کوئی جوس۔ ویسے تو یہاں ہر روز، مگر پیر، جمعرات اور ایام بیض ( ہر قمری مہینے کی14، 15، 16 تاریخ) کو بڑے پیمانے پر افطاری کا انتظام ہوتا ہے۔ جس میں کھجور، رطب (آدھی پکی کھجور)، خبز (بند)، قہوہ کا اہتمام ہوتا ہے۔


پہلے دن تو یہاں بھی یہی کیا کہ فجر پڑھ کر آئے تو عشاء پڑھ کر ہی نکلے۔ مگر پھر اگلے دن سے یوں کیا کہ فجر کی نماز پڑھ کر واپس چلے جاتے تھے اور گیارہ بجے صبح تک واپس مسجد آ جاتے تھے۔ اس طرح ہمیں آرام کا مزید وقت مل جاتا تھا۔ میری خالہ مدینہ سے قریب ایک شہر ینبع میں رہائش پذیر ہیں۔ جمعرات کی رات وہ مدینہ آ گئیں۔ جمعہ عشاء کے بعد انہیں کے ساتھ زیارات کے لیے نکلے۔ مسجد قباء ، سبع مساجد (غزوۂ خندق کی جگہ)، احد اور شہدائے احد قبرستان پر گئے۔ صبح فجر کے بعد مسجد قبلتین گئے۔ اس کے علاوہ جنت البقیع کی زیارت کی جو کہ مسجدِ نبویً سے متصل ہے۔
مسجد قبا
جنت البقیع
شہدائے احد قبرستان۔ عقب میں احد پہاڑ کا ایک حصہ دیکھا جا سکتا ہے۔ درمیان میں جس جگہ اینٹوں سے نشان لگایا ہوا ہے، یہ حضرت حمزہؓ کی جائے شہادت ہے۔

خالہ ہی کے ساتھ البیک بھی گئے اور وہاں کا مشہور بروسٹ کھایا۔ بلکہ ہمارے ایک دوست جو کہ جدہ میں مقیم ہیں، وہ ازراہِ تفنن کہا کرتے ہیں کہ پاکستانی حاجیوں کے حج کے ارکان میں سے ایک اہم رکن البیک کھانا ہے۔ :)

مدینہ منورہ میں آٹھ راتیں گزار کر 9 نومبر 2017ء کو صبح فجر کے بعد واپس مکہ روانہ ہوئے۔میں نے عمرہ کے لیے احرام مدینہ سے ہی باندھ لیا تھا۔ میقات پر پہنچ کر اندازہ ہوا کہ بہتر فیصلہ کیا، کہ وہاں بہت رش تھا۔ میقات پہنچ کر نفل پڑھے اور عمرہ کی نیت کی۔ مکہ پہنچ کر ہوٹل تک پہنچتے پہنچتے عصرکا وقت قریب آ چکا تھا۔ اس بار رہائش تبدیل کی گئی اور باب عبد العزیز سے نکل کر اجیاد کی جانب یعنی مکہ ٹاور سے آگے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر پر ایک فائیو سٹار ہوٹل میں کمرہ دیا گیا۔ یہ ہوٹل دور تو تھا، مگر یہاں سے ہر کچھ دیر بعد مسجد کے لیے شٹل چلتی تھی، اس لیے دوری محسوس نہ ہوئی۔ مسجد پہنچتے پہنچتے عصر کی جماعت ہو چکی تھی۔ جمعرات ہونے کی وجہ سے وہاں ویک اینڈ شروع ہو چکا تھا اور رش پہلے کی نسبت بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ اس لیے جب وہیل چیئر کے سلسلے میں رابطہ کیا تو مایوسی ہوئی کہ ایک تو موجود نہیں تھیں اور اگر آتی بھی تھیں تو صرف بزرگ اور معذور افراد کو دی جا رہی تھی۔ لہٰذا فیصلہ یہ کیا کہ الگ الگ طواف اور سعی کرتے ہیں۔ پہلے میں طواف کر آیا، پھر اہلیہ بچوں کو میرے پاس چھوڑ کر طواف کر آئیں۔ پھر مغرب کا وقت ہو گیا۔ مغرب اور عشاء کے درمیان مسجد کے صحن میں ہی کچھ آرام کیا۔ پھر عشاء کے بعد سعی بھی اسی طرح الگ الگ ہی کی۔ یوں دوسرا عمرہ الحمد للہ نسبتاً کم تھکاوٹ کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔ ویک اینڈ ہونے کے باعث رش بہت زیادہ تھا۔ لہٰذا صحن کے مطاف میں صرف عمرہ کرنے والوں کو طواف کے لیے جانے دیا جا رہا تھا۔ 


12 نومبر 2017ء کو ظہر کے بعد واپسی کے لیے جدہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ تشنگی باقی ہے، کچھ دن اور رکنا چاہیے تھا۔ مکہ میں محض چھ دن کافی کم محسوس ہوئے۔ مکہ میں دیگر زیارات کے لیے بھی نہ نکل سکے۔ خواہش تھی کہ واپسی والے ایام میں ایک دن چلے جائیں گے۔ ہوٹل کی مینیجمنٹ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اگر اور زائرین بھی تیار ہوئے تو بھیج دیں گے۔ مگر یہ ممکن نہ ہو سکا۔ کم وقت ہونے کے سبب زیادہ وقت مسجد الحرام میں ہی گزارنے کو ترجیح دی۔ اور دیگر زیارات کے لیے رب کے حضور دوبارہ حاضری کی درخواست پیش کر آئے۔ جدہ ائر پورٹ پہنچ کر معلوم ہوا کہ فلائیٹ دس بجے کے بجائے سوا گیارہ بجے روانہ ہو گی۔ کچھ گھنٹے ائرپورٹ پر گزارے۔ 
ایک دلچسپ واقعہ جو جدہ ائرپورٹ پر ہوا، وہ یہ کہ جب واک تھرو گیٹ سے گزرا تو وہ بول اٹھا۔ واپس گیا، جیبیں اچھی طرح چیک کیں، ایک مسواک رہ گئی تھی وہ بھی نکال لی۔ دوبارہ گزرا تو پھر بول اٹھا۔ اب کی بار جوتے بھی اتار دیے، مگر پھر وہی صورتحال۔ اب انہوں نے ایک بندے سے کہا کہ اسے چیک کرو۔ اس نے جب میٹل ڈیٹکٹر پھیرنا شروع کیا تو وہ دائیں ٹانگ پر آ کر بولنا شروع ہو گیا، دراصل کولہے کا مصنوعی جوڑ ڈٹیکٹ ہو رہا تھا۔ پھر انہیں بتایا تو جان چھوٹی۔ ورنہ ایک خطرہ یہ بھی موجود تھا کہ وہیں لٹا کر چیک کرنا نہ شروع کر دیں کہ کیا رکھ کر لے جا رہا ہے۔ :)
نومبر 2017ء کی صبح فجر کے وقت اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بخیریت اسلام آباد واپس پہنچ گئے۔ یوں زندگی کا اب تک کا یادگار ترین سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔ 

عموماً اس بات پر افسوس ہوتا تھا کہ ہمارے جو بھی احباب بیرون ملک سے ہو کر آتے ہیں، اکثر ہی پاکستانیوں کے رویہ اور اخلاقیات پر جزبز نظر آتے ہیں۔ ایک خیال یہی آتا تھا کہ ہمیں صرف اپنی ہی برائیاں نظر آتی ہیں، سب ہی ایسے ہوتے ہوں گے۔ اب جو کچھ خود اپنی نگاہوں سے دیکھا ہے تو اس کا ذکر تو کیا ہی کروں، محض یہ دعا کر سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم بر صغیر کے مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے اور دیگر قوموں سے اخلاقیات اور نظم و ضبط سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 

اس تمام سفر میں سب سے پہلے اہلیہ کا شکریہ کہ پیش آنے والی تمام مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ بچوں کو احسن انداز سے سنبھالا۔ بیٹی کا بھی شکریہ کے اس تمام عرصہ میں زیادہ تنگ نہیں کیا اور چلنا بھی پڑا تو تھک کر گود کی ضد نہیں کی۔ بیٹے کی طبیعت کچھ خراب رہی، مگر پھر بھی اس نے ہنس کھیل کر تمام وقت گزارا۔ اپنے دوست راشد بھائی کا بھی شکریہ کہ جو ہمارے اس مبارک سفر کا ذریعہ بنے۔ کمپنی والوں کا بھی شکریہ کہ جو اس دیرینہ خواہش کی قبولیت کا ذریعہ بنے۔ اللہ تعالیٰ اس مبارک سفر کے تمام معاونین کو اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ عبادات میں جو کمی کوتاہی رہ گئی، اس سے درگزر فرماتے ہوئے عبادات قبول فرمائے۔ بعد کی زندگی پہلے سے بہتر بنائے۔ آمین

جمعرات, مئی 18, 2017

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ

آج کے اس ہما ہمی اور نفسا نفسی کے دور میں اخلاص ڈھونڈے نہیں ملتا۔ کسی کی  پریشانی پر دکھ اور افسوس کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا پر چند جملے لکھ دینا ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔ اس گھٹن زدہ معاشرے میں  جب کہیں سے تازہ ہوا کا جھونکا داخل ہوتا ہے تو جیسے مایوسی کی چھائی گھٹا یک دم  چھٹ جاتی ہے اور پھر سے نئی توانائی کے ساتھ، جینے کی امنگ جاگ اٹھتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ منگل میرے ساتھ پیش آیاِ۔
دفتر سے واپسی پر ایک رفیقِ کار نے کھنہ پُل بس سٹاپ پر اتارا۔ کافی دیر تک جب گھر کی  طرف جانے والی گاڑی نہ آئی، تو سڑک کنارے ہی موبائل نکالا اور اوبر (uber) کی گاڑی بک کروانے لگا۔ گاڑی بک ہونے پر ابھی گاڑی کا ماڈل اور نمبر نوٹ کر ہی رہا تھا کہ کسی نے ہاتھ مار کر موبائل چھین لیا۔ ہڑبڑا کر دیکھا تو ایک موٹر سائیکل سوار لڑکا، جس کے پیچھے خاتون سوار تھیں، وہ میرے ہاتھ سے موبائل جھپٹ کر جا چکا تھا۔ مغرب کا وقت اور بائیک کی رفتار تیز ہونے کے سبب بائیک کا نمبر بھی نہیں پڑھا گیا۔
اس کے فوراً پیچھے ایک بائیک میرے پاس رکی، اس پر دو نوجوان لڑکے بیٹھے تھے۔ جو شاید یہ واردات دیکھ چکے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ بائیک والا میرا موبائل لے کر بھاگا ہے۔ انہوں نے بائیک پیچھے دوڑا دی۔
اور میں انا للہ و انا الیہ راجعون کا ورد کرتے ہوئے اگلے لائحۂ عمل کے بارے میں سوچنے لگا۔ فیصلہ کیا کہ اوبر بک تو ہو ہی چکی ہے، اس کا انتظار کیا جائے۔ اوبر میں جاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اب گھر جا کر پہلا کام اینڈرائڈ ڈیوائس مینیجر سے کونیکٹ ہو کر موبائل کو اِریز (erase)اور لاک (lock)کرنا ہے۔ موبائل چونکہ چھنتے وقت استعمال میں تھا، تو ایک پریشانی یہ بھی تھی کہ چور کو موبائل اَن لاکڈ (unlocked)ہی مل گیا ہے۔
کچھ دیر میں خیال آیا کہ اپنے موبائل پر کال کی جائے۔ اوبر ڈرائیور سے درخواست کی تو اس نے فوراً موبائل استعمال کرنے کی اجازتدے دی۔
فون کیا تو آگے سے ایک لڑکے نے فون اٹھایا اورکہا کہ "بھائی آپ کا فون ہم نے اس سے لے لیا ہے، آپ کہاں پر ہیں؟"
میں نے ان کو فوراً اپنی لوکیشن بتائی۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور ان دونوں کے لیے دل سے دعا کی۔
کچھ ہی دیر میں دونوں بھائی موبائل لے کر پہنچ گئے۔ پوچھنے پر بتایا کہ "رش ہونے کے سبب وہ لڑکا بائیک زیادہ نہیں بھگا سکا۔ ہم نے قریب پہنچ کر شور مچایا تو گھبراہٹ میں موبائل پھینک کر بھاگ گیا۔"
موبائل کا کور اترا ہوا تھا، جو کہ شاید موبائل کھولنے کی غرض سے اتارا گیا ہو۔ موبائل پر لاک کوڈ کی وجہ سے کسی کو فون نہیں کر سکتے تھے، تو واپس کھنہ پل پہنچ گئے کہ شاید میں وہیں انتظار میں ہوں۔ اسی اثنا میں میری کال آ گئی۔
یوں دس بارہ منٹ کے اندر اندر اللہ تعالیٰ نے ایک آزمائش میں ڈال کر دو فرشتوں کی مدد سے نکال لیا۔ ان کو گلے سے لگایا، دعا دی اور کچھ انعام پیش کیا۔ انہوں نے صرف دعا کی درخواست کرتے ہوئے انعام لینے سے انکار کر دیا۔
بعد میں اللہ تعالیٰ کی حکمتوں پر غور کیا ۔
چھننے سے پہلے اوبر کا بک ہو جانا۔۔۔
چھننے کے فوراً بعد فرشتہ صفت نوجوان بھیجنا۔۔۔
کال کرنے کا خیال کچھ دیر بعد ذہن میں ڈالنا۔۔۔
ضرور کوئی خاص نیکی تھی جو کام آئی۔
یوں کسی انجان کی مدد کے لیے بلا خوف و خطر اور کسی ذاتی غرض سے بالاتر ہو کر نکل پڑنا، یقیناً والدین کی اچھی تربیت کی  بدولت ہی ممکن ہے۔ لہٰذا ان نوجوانوں کے والدین کے لیے بھی دعا کی۔ اُس وقت جو کیفیت تھی اس میں نہ تو ان نوجوانوں کا پتہ پوچھنے کا خیال آیا اور نہ ہی ان کیتصویر لینا ذہن میں آیا۔
مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کا کردار اپنا گہرا نقش چھوڑ گیا ہے۔
یہ تحریر میں نے اپنے اوپر ان لڑکوں کا ایک قرض سمجھ کر لکھی ہے۔ یہ سطور لکھنے کا بھی بنیادی مقصد ان نوجوانوں کے لیے دعاؤں کا دائرہ کار بڑھانا ہے، کیونکہ یہی نوجوان اس ملک کے لیے اصل سرمایہ ہیں۔
شاید انہی کے لیے سرور بارہ بنکوی کہہ گئے ہیں:
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں​