بدھ، 23 دسمبر، 2020

نظم: اسلامی جمعیت طلبہ کی نذر

0 تبصرے
اسلامی جمعیت طلبہ کی نذر
٭
ایک عزمِ جواں ہے جمعیت
ایک کوہِ گراں ہے جمعیت

اس کا مقصد ہے خاص رب کی رضا
یوں کلیدِ جِناں ہے جمعیت

ہر زمانہ ہے فیض یاب اس سے
ایک چشمہ رواں ہے جمعیت

یوں سنوارے ہیں سیرت و کردار
جیسے اک باغباں ہے جمعیت

ہر کوئی ہے شریکِ رنج و خوشی
گویا اک خانداں ہے جمعیت

بے تکلف، معاون و بے لوث 
محفلِ دوستاں ہے جمعیت

شکر تابشؔ ادا کرو رب کا
نعمتِ بے کراں ہے جمعیت
٭٭٭
محمد تابش‎ صدیقی

جمعرات، 17 دسمبر، 2020

غزل: سن کے گھبرا گئے تھے جو نامِ خزاں ٭ تابش

0 تبصرے
 سن کے گھبرا گئے تھے جو نامِ خزاں
آ گئی راس ان کو بھی شامِ خزاں

ہم بہاروں سے مایوس کیا ہو گئے
دیس میں بڑھ گئے یونہی دامِ خزاں

غم ضروری ہے قدرِ خوشی کے لیے
ہے یہی غمزدوں کو پیامِ خزاں

دن بہاروں کے آ کر چلے بھی گئے
ہم تو کرتے رہے اہتمامِ خزاں

گر کلامِ بہاراں ہے گل کی مہک
تو ہے پتوں کی آہٹ کلامِ خزاں

سوکھے پتے نہ کچلو یوں پیروں تلے
کچھ تو تابشؔ کرو احترامِ خزاں
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

نظم: ٹوٹا ہوا تارا ٭ تابش

0 تبصرے

 نظم: ٹوٹا ہوا تارا

٭​

رات خاموش ہے، تاریک فضا ہے ہر سو
دور افق پر کوئی تارا ہے مگر ٹوٹا ہوا
دل یہ کہتا ہے اسے پاس بلا لوں اپنے
اور پھر دیر تلک، دیر تلک باتیں کروں
باتوں باتوں میں بکھرنے کا سبب پوچھ لوں میں
شاید اس دل کے بکھرنے کا سبب مل جائے
یا ہمیں غم سے بہلنے کا سبب مل جائے
اسی اثناء میں یہ تاریکیِ شب چھٹ جائے

٭٭٭

محمد تابش صدیقی

اتوار، 11 اکتوبر، 2020

نظم: بِنائے امید

0 تبصرے

بِنائے امید

٭​

کبھی جب زندگی کی تلخیاں مجھ کو ستاتی ہیں

کبھی ناکام ہونے پر قدم جب لڑکھڑاتے ہیں

کبھی مایوس ہو کر جب میں ہمت ہار جاتا ہوں

کبھی جب کوئی غم دل پر اثر اپنا دکھاتا ہے

تو ایسے میں

کلامِ پاک میں اللہ کا فرماں

مجھے پھر یاد آتا ہے

مری ہمت بندھاتا ہے

امید اک یہ دلاتا ہے

”کسی انسان پر اللہ کوئی بوجھ اس کی تاب سے بڑھ کر نہیں رکھتا“

کوئی بھی غم ہو یا مشکل،

کوئی تلخی کہ ناکامی

مری برداشت کی حد سے زیادہ ہو نہیں سکتی

٭

محمد تابش صدیقی