جمعرات، 18 مئی، 2017

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ

آج کے اس ہما ہمی اور نفسا نفسی کے دور میں اخلاص ڈھونڈے نہیں ملتا۔ کسی کی  پریشانی پر دکھ اور افسوس کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا پر چند جملے لکھ دینا ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔ اس گھٹن زدہ معاشرے میں  جب کہیں سے تازہ ہوا کا جھونکا داخل ہوتا ہے تو جیسے مایوسی کی چھائی گھٹا یک دم  چھٹ جاتی ہے اور پھر سے نئی توانائی کے ساتھ، جینے کی امنگ جاگ اٹھتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ منگل میرے ساتھ پیش آیاِ۔
دفتر سے واپسی پر ایک رفیقِ کار نے کھنہ پُل بس سٹاپ پر اتارا۔ کافی دیر تک جب گھر کی  طرف جانے والی گاڑی نہ آئی، تو سڑک کنارے ہی موبائل نکالا اور اوبر (uber) کی گاڑی بک کروانے لگا۔ گاڑی بک ہونے پر ابھی گاڑی کا ماڈل اور نمبر نوٹ کر ہی رہا تھا کہ کسی نے ہاتھ مار کر موبائل چھین لیا۔ ہڑبڑا کر دیکھا تو ایک موٹر سائیکل سوار لڑکا، جس کے پیچھے خاتون سوار تھیں، وہ میرے ہاتھ سے موبائل جھپٹ کر جا چکا تھا۔ مغرب کا وقت اور بائیک کی رفتار تیز ہونے کے سبب بائیک کا نمبر بھی نہیں پڑھا گیا۔
اس کے فوراً پیچھے ایک بائیک میرے پاس رکی، اس پر دو نوجوان لڑکے بیٹھے تھے۔ جو شاید یہ واردات دیکھ چکے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ بائیک والا میرا موبائل لے کر بھاگا ہے۔ انہوں نے بائیک پیچھے دوڑا دی۔
اور میں انا للہ و انا الیہ راجعون کا ورد کرتے ہوئے اگلے لائحۂ عمل کے بارے میں سوچنے لگا۔ فیصلہ کیا کہ اوبر بک تو ہو ہی چکی ہے، اس کا انتظار کیا جائے۔ اوبر میں جاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اب گھر جا کر پہلا کام اینڈرائڈ ڈیوائس مینیجر سے کونیکٹ ہو کر موبائل کو اِریز (erase)اور لاک (lock)کرنا ہے۔ موبائل چونکہ چھنتے وقت استعمال میں تھا، تو ایک پریشانی یہ بھی تھی کہ چور کو موبائل اَن لاکڈ (unlocked)ہی مل گیا ہے۔
کچھ دیر میں خیال آیا کہ اپنے موبائل پر کال کی جائے۔ اوبر ڈرائیور سے درخواست کی تو اس نے فوراً موبائل استعمال کرنے کی اجازتدے دی۔
فون کیا تو آگے سے ایک لڑکے نے فون اٹھایا اورکہا کہ "بھائی آپ کا فون ہم نے اس سے لے لیا ہے، آپ کہاں پر ہیں؟"
میں نے ان کو فوراً اپنی لوکیشن بتائی۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور ان دونوں کے لیے دل سے دعا کی۔
کچھ ہی دیر میں دونوں بھائی موبائل لے کر پہنچ گئے۔ پوچھنے پر بتایا کہ "رش ہونے کے سبب وہ لڑکا بائیک زیادہ نہیں بھگا سکا۔ ہم نے قریب پہنچ کر شور مچایا تو گھبراہٹ میں موبائل پھینک کر بھاگ گیا۔"
موبائل کا کور اترا ہوا تھا، جو کہ شاید موبائل کھولنے کی غرض سے اتارا گیا ہو۔ موبائل پر لاک کوڈ کی وجہ سے کسی کو فون نہیں کر سکتے تھے، تو واپس کھنہ پل پہنچ گئے کہ شاید میں وہیں انتظار میں ہوں۔ اسی اثنا میں میری کال آ گئی۔
یوں دس بارہ منٹ کے اندر اندر اللہ تعالیٰ نے ایک آزمائش میں ڈال کر دو فرشتوں کی مدد سے نکال لیا۔ ان کو گلے سے لگایا، دعا دی اور کچھ انعام پیش کیا۔ انہوں نے صرف دعا کی درخواست کرتے ہوئے انعام لینے سے انکار کر دیا۔
بعد میں اللہ تعالیٰ کی حکمتوں پر غور کیا ۔
چھننے سے پہلے اوبر کا بک ہو جانا۔۔۔
چھننے کے فوراً بعد فرشتہ صفت نوجوان بھیجنا۔۔۔
کال کرنے کا خیال کچھ دیر بعد ذہن میں ڈالنا۔۔۔
ضرور کوئی خاص نیکی تھی جو کام آئی۔
یوں کسی انجان کی مدد کے لیے بلا خوف و خطر اور کسی ذاتی غرض سے بالاتر ہو کر نکل پڑنا، یقیناً والدین کی اچھی تربیت کی  بدولت ہی ممکن ہے۔ لہٰذا ان نوجوانوں کے والدین کے لیے بھی دعا کی۔ اُس وقت جو کیفیت تھی اس میں نہ تو ان نوجوانوں کا پتہ پوچھنے کا خیال آیا اور نہ ہی ان کیتصویر لینا ذہن میں آیا۔
مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کا کردار اپنا گہرا نقش چھوڑ گیا ہے۔
یہ تحریر میں نے اپنے اوپر ان لڑکوں کا ایک قرض سمجھ کر لکھی ہے۔ یہ سطور لکھنے کا بھی بنیادی مقصد ان نوجوانوں کے لیے دعاؤں کا دائرہ کار بڑھانا ہے، کیونکہ یہی نوجوان اس ملک کے لیے اصل سرمایہ ہیں۔
شاید انہی کے لیے سرور بارہ بنکوی کہہ گئے ہیں:
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں​

جمعرات، 19 مئی، 2016

گرمی۔۔۔

صبح صبح فیس بک پر گرمی زدہ پوسٹس کی بھرمار دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ لوگوں کو زیادہ ہی گرمی لگ رہی ہے۔

پھر دفتر کے لئے نکلا تو لگ پتہ گیا اور سوچا کہ دفتر پہنچ کر، اے۔ سی۔ آن کر کے، ذرا سکون لے کر میں بھی گرمی کی گواہی پوسٹ کر دوں گا۔

اتنے میں کورال چوک پر زیرِ تعمیر انٹر چینج کے پاس سے گزرا تو ایک چودہ پندرہ سالہ لڑکا اپنی ننگی پیٹھ پر اینٹیں ڈھو کر لے جا رہا تھا۔

نا معلوم اس عمر میں کتنے نفوس کا بوجھ اس بظاہر ناتواں مگر مضبوط ترین کندھوں پر ہو گا۔
اور وہ اس گرمی سے قطع نظر آج کی روٹی کے حصول کے لئے تندہی کے ساتھ اپنے کام میں مگن تھا۔

میں بےبسی کے عالم میں صرف اپنے ماتھے پر آیا پسینہ ہی پونچھ سکا۔

گرمی کا زور ٹوٹ چکا تھا۔۔۔

جمعہ، 4 مارچ، 2016

شاعرِ مشرق اینڈرائڈ ایپ --- ابتدائی پانچ ماہ کے شماریات۔

الحمد للہ، 5 ماہ کے مختصر عرصہ میں شاعرِ مشرق اینڈرائڈ  ایپلیکیشن کے ٹوٹل انسٹالز کی تعداد 2500 سے تجاوز کر گئی ہے۔ اور اس وقت یونیک یوزرز کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس ایپلیکیشن کے لئے محفل فورم، فیس بک اور ٹویٹر پر پوسٹ کرنے کے علاوہ کوئی ایڈورٹائزمنٹ نہیں کی گئی۔
اس موقع پر میری خواہش ہے کہ میں ان سٹیٹس کو آپ لوگوں کے ساتھ شئر کروں۔ اور شکریہ ادا کر سکوں کہ ایپلیکیشن کی کامیابی میں کچھ نہ کچھ حصہ آپ لوگوں کا بھی ہے۔ :)

اوور آل سٹیٹس:


ریٹنگ کا معاملہ کچھ کمزور ہے، چونکہ میں خود ایپلیکشن ریٹنگ دینے کے معاملہ میں کمزور ہوں، لہٰذا یہ شکایت بھی نہیں کرتا۔ :)

ریٹنگز:


مکمل انسٹال گراف:



ایپلیکیشن ورژن کے اعتبار سے انسٹالز:
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جنہوں نے فرسٹ ٹائم انسٹالیشن کے بعد سے ایپلیکیشن اپڈیٹ نہیں کی۔ :)


ملک کے اعتبار سے انسٹالز:


اینڈرائڈ ورژن کے اعتبار سے انسٹالز:


امید ہے کہ کچھ دنوں میں مزید اپڈیٹ کروں گا۔ جس میں ایک اہم اپڈیٹ فیورٹس ایڈ کرنے کا ہے۔

ایک بہت اہم بات جو ایپلیکیشن کی کامیابی کے لئے ضروری ہے وہ آپ لوگوں کا فیڈ بیک ہے۔ کہیں بھی کسی قسم کا مسئلہ نظر آئے یا ایپلیکیشن میں کمی کوتاہی نظر آئے تو ضرور آگاہ کریں، اور بہتری کے لئے تجاویز بھی دیں۔

ان تمام افراد کا تہہ دل سے ممنون ہوں کہ جنہوں نے یہ ایپلیکشن انسٹال کی یا آگے مزید لوگوں تک بھی پہنچائی۔ :)
اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اجر عطا فرمائے۔ آمین
دعاؤں میں یاد رکھیں۔ جزاک اللہ

بدھ، 2 ستمبر، 2015

نفاذ اردو اور انگریزی اصطلاحات

جب بھی کبھی اردو کے نفاذ کی بات آتی ہے، ایک موضوع جو بڑی شد و مد کے ساتھ سر اٹھاتا ہے وہ مختلف انگریزی اصلاحات و الفاظ کے اردو ترجمے کا ہے. 

اور ہم سب ایسے الفاظ کے لیے بالجبر کوئی نہ کوئی اردو لفظ ڈھونڈنے میں لگ جاتے ہیں اور نہ ملنے کی صورت میں اردو کو نا مکمل سمجھنا شروع کر دیتے اور ان الفاظ کا ترجمہ ہونا ضروری سمجھنے لگتے ہیں. 

اصطلاحات ہمیشہ جس زبان میں ایجاد ہوئی ہوتی ہیں، عموماً اسی طرح یا زبان کی ضروریات کے مطابق معمولی رد و بدل کے ساتھ ہر زبان کی لغت کا حصہ بن جاتی ہیں. 

مثال کے طور پر بہت سی سائنسی اصطلاحات یونانی زبان میں وجود میں آئیں، وہ ابھی تک انگریزی میں بھی مستعمل ہیں. 

بہت سی علمی اصطلاحات جو عربی میں وجود میں آئیں، وہ انگریزی میں اسی طرح یا معمولی رد و بدل کے ساتھ مستعمل ہیں. مثلاً الجبرا، کیمسٹری (کیمیاء) وغیرہ. 

ایسے الفاظ جن کا اردو متبادل موجود تو ہو، لیکن معدوم ہو چکا ہو، اسے از سر نو زندہ کرنے کی ضرورت ہے. 

ایسے انگریزی الفاظ جو اب روزمرہ اردو بول چال کا حصہ بن چکے ہیں، ان کو اردو لغت کا حصہ بنا لینا چاہیے. 

اور ایسی اصطلاحات، جو اردو میں موجود نہیں ہیں، ان کو بھی بعینہ لغت میں شامل کر لینا چاہیے. 

ضروری نہیں ہے کہ ہر لفظ اور اصطلاح لازمی ترجمہ کر کے لغت میں شامل کی جائے. 
مثلاً فیسبک، ٹویٹر اور ان میں استعمال ہونے والی دیگر اصطلاحات کا ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے. 
فیسبک ایک اسم ہے. اس کو لغوی معنوں میں ترجمہ کر کے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے. 

اس طرح کی لا حاصل مباحث اور کوششیں اردو کے نفاذ کو اور مشکل بنا دیتی ہیں. 

اردو زبان آسان اور دیگر زبانوں کے الفاظ کو قبول کرنے والی زبان ہے. لہٰذا جو انگریزی الفاظ اور اصطلاحات روزمرہ اردو میں مستعمل ہیں، انہیں تبدیل کرنے کی پریشانی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے. 

جمعہ، 5 جون، 2015

آج پھر بجٹ تقریر ہے

آج پھر بجٹ تقریر ہے. 
آج پھر ساری قوم ٹی وی، ریڈیو کے سامنے بیٹھی ہو گی.
آج پھر سرکاری ملازمین تنخواہوں میں اضافے کی خوشخبری کے منتظر ہوں گے. 
آج پھر گاڑی خریدنے کے خواہشمند، گاڑی پر ڈیوٹی کم ہونے کے منتظر ہوں گے. 
آج پھر مزدور کم سے کم اجرت بڑھنے کے منتظر ہوں گے. 
آج پھر صنعتکار سیلز ٹیکس کے بڑھنے پر قیمتوں میں اضافہ کرنے کے منتظر ہوں گے. 
آج پھر تنخواہ دار طبقہ ٹیکس میں کمی کا منتظر ہو گا. 

تقریر ہو گی.
دلوں کی دھڑکن اوپر نیچے ہو گی.
کبھی تیوریاں چڑھیں گی.
کبھی باچھیں کھلیں گی. 
تقریر ختم ہو گی. 

الیکٹرانک میڈیا کی دکان سجے گی. 
ہر چینل پر دنیا جہاں کے اکانومسٹ پتنگوں کی طرح ہر طرف سے نکلیں گے. 
سب اپنا منجن بیچیں گے. 
کوئی بجٹ کو تاریخی بجٹ ثابت کرے گا. 
کوئی بجٹ کو بد ترین بجٹ ثابت کرے گا. 
حکومتی نمائندے بھی نمودار ہوں گے. 
بجٹ کو عوام کے لیے تحفہ قرار دیں گے. 
اپوزیشن رہنما بھی تشریف لائیں گے. 
بجٹ کو عوام دشمن قرار دیں گے. 
سوشل میڈیا بھی خوب گرم ہو گا. 
ہر بندہ اپنے اندر موجود اکانومسٹ کو بیدار کرے گا. 
حکومتی و اپوزیشنی پارٹی کے ورکر ایک کے مقابلے میں دوسرا ہیش ٹیگ لے کر آئیں گے. 
فیس بک پر بھی تجزیوں کی بہار آئے گی. 

دن ختم ہو گا. 
بجٹ گزر جائے گا. 
زندگی معمول پر آ جائے گی. 

غریب کا بچہ آج پھر روٹی کے بغیر سو جائے گا.

جمعہ، 15 مئی، 2015

رائٹنگ این انگلش بلاگ

رائٹنگ این انگلش بلاگ از ناٹ این ایزی تھنگ... 
بِکاز یو ہیو ٹو رائٹ اٹ ان انگلش. 

ناؤ-آ-ڈیز، اٹ از ویری کامن ٹو یوز رومن اردو آن انٹرنیٹ... 

ایز پیپل سیز دیٹ اٹ از ایزی ٹو رائٹ اینڈ انڈرسٹینڈ ان رومن اردو. اینڈ اٹ از ناٹ ایزی ٹو انڈرسٹینڈ اردو ریٹن ان اردو سکرپٹ. دس از ویری سٹرینج فار می. 

سو آئی ڈیسائڈڈ ٹو رائٹ آ بلاگ ان اردو انگلش. مے بی اٹ از آلسو ایزی ٹو انڈرسٹینڈ فار پیپل لائک می، ہو کانٹ انڈرسٹینڈ انگلش ویری ویل. اینڈ آلویز ڈو سم سپیلنگ مسٹیکس. 

ایکچویلی، آئی لائک اٹ. ایز دیئر از نو نیڈ ٹو پُٹ 'ک' بیفور نالج. اٹ از مور فونیٹک دین انگلش اٹ سیلف. 

اف یو وانٹ ٹو ایوائڈ اینی انگلش گورو پوائنٹنگ ٹوورڈز  یور سپیلنگ مسٹیکس، انسٹیڈ آف فوکسنگ آن یور پریشئس تھاٹس. دس از دا وے فارورڈ. 

اف یو انڈرسٹینڈ، وٹ آئی ایم ٹرائنگ ٹو سے... 

دین پلیز سٹارٹ رائنگ اردو ان اردو سکرپٹ. اٹ از ناؤ ویری ایزی ٹو رائٹ ان اردو سکرپٹ، ایز مینی ٹولز آر اویلیبل فار کمپیوٹر اینڈ موبائل بوتھ. 

فار کمپیوٹر، جسٹ سرچ فار "پاک اردو انسٹالر" اینڈ انسٹال اٹ. یو کین رائٹ اردو بائی جسٹ سوئچنگ دا لینگویج ان لینگویج بار. 

فار موبائل انسٹال اینی اردو انیبلڈ کی بورڈ، اینڈ یوز اٹ بائی سوچنگ لینگویج ود سوائپ آف سپیس بار. 

آفٹر دس، اِف اینی ون آنسرڈ می ان رومن اردو آن مائی اردو پوسٹ. آئی ول آنسر ہم ان اردو انگلش. 

اِف ریڈنگ دِس بلاگ واز ڈیفیکلٹ فار یو، دین سٹارٹ رائٹنگ اینڈ پروموٹنگ اردو ان اردو سکرپٹ. ایز اردو از آور نیشنل لینگویج. اٹ ہیز ٹو بی پریزنٹڈ ان اردو سکرپٹ. 

تھینک یو فار یور ٹائم اینڈ ہیڈ ایک. 

جمعہ، 8 مئی، 2015

نہیں...

نہیں... 

نہیں، آپ غلط کہہ رہے ہیں... 
نہیں، آپ کی رائے غلط فہمی پر مبنی ہے... 
نہیں، آپ کی سوچ غلط ہے... 
نہیں، جیسا آپ کہہ رہے ہیں ویسا نہیں ہے... 
نہیں، میں نہیں مانتا... 

جی ہاں! 
اس نہیں کی ہمارے معاشرے میں بڑی اہمیت ہے. یہ وہ دیوار ہے جو بحث شروع ہوتے ہی کھڑی کر دی جاتی ہے. ہماری اکثر مباحث نہیں سے شروع ہو کر نہیں پر ختم ہو جاتی ہیں. اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات. 

ہماری مباحث میں زیادہ زور اپنی رائے کے حق میں دلائل کے بجائے دوسرے کی رائے کی نفی پر ہوتا ہے. دوسرے کی رائے کا احترام سرے سے مفقود ہوتا جا رہا ہے. 

اس سے بھی زیادہ افسوسناک یہ کہ اختلاف رائے پر نوبت نفرت اور قطع تعلقی تک جا پہنچتی ہے. 

کسی بھی معاملے پر اپنے علم کے مطابق کوئی بھی رائے اختیار کرنا ہر کسی کا حق ہے. اس کی رائے کا احترام دراصل اس کے علم کا احترام ہے. اور اس کی رائے کی نفی دراصل اس کے علم کی نفی ہے. 

اور یہی طرزِ عمل بحیثیتِ مجموعی ہمارے اندر عدم برداشت کو پروان چڑھا رہا ہے. 

اس کلچر کو بدلنے کی ضرورت ہے. ایک دوسرے کی بات کو سننے، سمجھنے، برداشت کرنے اور احترام دینے کا رویہ اپنانا ہو گا. 

اگر آپ کی رائے دوسرے سے مختلف ہے تو اس کی رائے کی نفی کیے بغیر، اچھے الفاظ میں اپنی رائے مدلل انداز میں پیش کریں. اس سے دوسرے کے اندر بھی آپ کی بات سننے کا جذبہ پیدا ہو گا. اور نہیں کہہ دینے کی وجہ سے آراء کے درمیان کھڑی ہو جانے والی دیوار نہیں بنے گی. 

کوشش کریں کہ اختلافِ رائے دشمنی اور نفرت میں نہ تبدیل ہو. 

یقین جانئیے! 
اس رویہ کی تبدیلی سے معاشرے میں برداشت بڑھے گی. مباحث نتیجہ خیز ہونے کے امکانات پیدا ہو جائیں گے. 

آئیے!
مل کر نہیں کی اس دیوارِ برلن کو توڑ ڈالیں. اور ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھیں.