آج کے اس ہما ہمی اور نفسا نفسی کے دور میں اخلاص ڈھونڈے نہیں ملتا۔ کسی کی پریشانی پر دکھ اور افسوس کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا پر چند جملے لکھ دینا ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔ اس گھٹن زدہ معاشرے میں جب کہیں سے تازہ ہوا کا جھونکا داخل ہوتا ہے تو جیسے مایوسی کی چھائی گھٹا یک دم چھٹ جاتی ہے اور پھر سے نئی توانائی کے ساتھ، جینے کی امنگ جاگ اٹھتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ منگل میرے ساتھ پیش آیاِ۔
دفتر سے واپسی پر ایک رفیقِ کار نے کھنہ پُل بس سٹاپ پر اتارا۔ کافی دیر...