
اس بات پر یقین تو پہلے ہی تھا کہ انسان کے ذمہ تدبیر اور کوشش ہے، کام کا ہونا یا نہ ہونا اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے۔ نیت خالص ہو تو پھر چاہے تدبیر اور کوشش میں کوئی کمی کوتاہی موجود بھی ہو، اللہ تعالیٰ مراحل میں آسانی فرما دیتا ہے۔
شاید ہی کوئی مسلمان ایسا ہو کہ جس کے دل میں حرمین کی حاضری کا شوق اور خواہش نہ موجود ہو۔ مگر ہوتا یوں ہے کہ تمام تر خواہش ہونے کے باوجود کبھی دنیاوی خواہشات، کبھی بیماری اور لاچاری حائل آ جاتی ہے، وار انسان خواہش سے آگے نہیں بڑھ پا رہا ہوتا۔ ہمارامعاملہ بھی کچھ اس قسم...