خالقِ کن فکاں، مالکِ دو جہاںکوئی کیسے کرے حمدِ کامل بیاںیہ زمین و زماں، یہ مکاں لامکاںتیرے جلووں کی پیہم نمائش یہاںرنگ تیرے ہی بکھرے کراں تا کراںبرگ و بار و حجر، ریگ و آبِ رواںتیری ہی کبریائی کا اعلان اذاںہے ترا ذکر ہی ہر گھڑی، ہر زماںچاند، سورج، ستاروں بھری کہکشاںہے تری آیتوں سے بھرا آسماںہے خدائی تری موسموں سے عیاںہو وہ گرما و سرما، بہار و خزاںتو جو چاہے، برسنے لگیں بدلیاںتو نہ چاہے تو پیاسا رہے ہر کنواںتیری قدرت کہ پیدا کیے انس و جاںآگ، پانی، ہوا اور مٹی سے یاںتیری رحمت سے وہ ہو گئے بے...
جمعہ، 19 مارچ، 2021
جمعرات، 11 مارچ، 2021
غزل: جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایا
جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایاہر نیا زخم ہے اب میرے بدن پر پھایاشمعِ احساس کو ہے ایک شرر کی حسرتبے حسی کا ہے گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایامیں کہ تھا حسنِ رخِ یار کے دیدار سے خوشمیرا خوش رہنا بھی اک آنکھ نہ اُس کو بھایااب تو ہر شخص نظر آتا ہے مجھ سے بہترجب سے اپنے بُتِ پندار کو میں نے ڈھایاجب بھی ناکام ہوا میں، تو پکارا اس کواس نے الجھا ہوا ہر کام مرا سلجھایاوادیِ عشق کا رستہ بھی ہے منزل تابشؔمیں نے دل کو ہے بہت بار یہی سمجھایا٭٭٭محمد تابش صدیق...