جمعہ، 8 مئی، 2015

نہیں...

نہیں... 

نہیں، آپ غلط کہہ رہے ہیں... 
نہیں، آپ کی رائے غلط فہمی پر مبنی ہے... 
نہیں، آپ کی سوچ غلط ہے... 
نہیں، جیسا آپ کہہ رہے ہیں ویسا نہیں ہے... 
نہیں، میں نہیں مانتا... 

جی ہاں! 
اس نہیں کی ہمارے معاشرے میں بڑی اہمیت ہے. یہ وہ دیوار ہے جو بحث شروع ہوتے ہی کھڑی کر دی جاتی ہے. ہماری اکثر مباحث نہیں سے شروع ہو کر نہیں پر ختم ہو جاتی ہیں. اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات. 

ہماری مباحث میں زیادہ زور اپنی رائے کے حق میں دلائل کے بجائے دوسرے کی رائے کی نفی پر ہوتا ہے. دوسرے کی رائے کا احترام سرے سے مفقود ہوتا جا رہا ہے. 

اس سے بھی زیادہ افسوسناک یہ کہ اختلاف رائے پر نوبت نفرت اور قطع تعلقی تک جا پہنچتی ہے. 

کسی بھی معاملے پر اپنے علم کے مطابق کوئی بھی رائے اختیار کرنا ہر کسی کا حق ہے. اس کی رائے کا احترام دراصل اس کے علم کا احترام ہے. اور اس کی رائے کی نفی دراصل اس کے علم کی نفی ہے. 

اور یہی طرزِ عمل بحیثیتِ مجموعی ہمارے اندر عدم برداشت کو پروان چڑھا رہا ہے. 

اس کلچر کو بدلنے کی ضرورت ہے. ایک دوسرے کی بات کو سننے، سمجھنے، برداشت کرنے اور احترام دینے کا رویہ اپنانا ہو گا. 

اگر آپ کی رائے دوسرے سے مختلف ہے تو اس کی رائے کی نفی کیے بغیر، اچھے الفاظ میں اپنی رائے مدلل انداز میں پیش کریں. اس سے دوسرے کے اندر بھی آپ کی بات سننے کا جذبہ پیدا ہو گا. اور نہیں کہہ دینے کی وجہ سے آراء کے درمیان کھڑی ہو جانے والی دیوار نہیں بنے گی. 

کوشش کریں کہ اختلافِ رائے دشمنی اور نفرت میں نہ تبدیل ہو. 

یقین جانئیے! 
اس رویہ کی تبدیلی سے معاشرے میں برداشت بڑھے گی. مباحث نتیجہ خیز ہونے کے امکانات پیدا ہو جائیں گے. 

آئیے!
مل کر نہیں کی اس دیوارِ برلن کو توڑ ڈالیں. اور ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھیں. 

2 تبصرے: