اسلامی جمعیت طلبہ کی نذر٭ایک عزمِ جواں ہے جمعیتایک کوہِ گراں ہے جمعیتاس کا مقصد ہے خاص رب کی رضایوں کلیدِ جِناں ہے جمعیتہر زمانہ ہے فیض یاب اس سےایک چشمہ رواں ہے جمعیتیوں سنوارے ہیں سیرت و کردارجیسے اک باغباں ہے جمعیتہر کوئی ہے شریکِ رنج و خوشیگویا اک خانداں ہے جمعیتبے تکلف، معاون و بے لوث محفلِ دوستاں ہے جمعیتشکر تابشؔ ادا کرو رب کانعمتِ بے کراں ہے جمعیت٭٭٭محمد تابش صدی...
بدھ، 23 دسمبر، 2020
جمعرات، 17 دسمبر، 2020
غزل: سن کے گھبرا گئے تھے جو نامِ خزاں ٭ تابش
سن کے گھبرا گئے تھے جو نامِ خزاںآ گئی راس ان کو بھی شامِ خزاںہم بہاروں سے مایوس کیا ہو گئےدیس میں بڑھ گئے یونہی دامِ خزاںغم ضروری ہے قدرِ خوشی کے لیےہے یہی غمزدوں کو پیامِ خزاںدن بہاروں کے آ کر چلے بھی گئےہم تو کرتے رہے اہتمامِ خزاںگر کلامِ بہاراں ہے گل کی مہکتو ہے پتوں کی آہٹ کلامِ خزاںسوکھے پتے نہ کچلو یوں پیروں تلےکچھ تو تابشؔ کرو احترامِ خزاں٭٭٭محمد تابش صدیق...
نظم: ٹوٹا ہوا تارا ٭ تابش
نظم: ٹوٹا ہوا تارا٭رات خاموش ہے، تاریک فضا ہے ہر سودور افق پر کوئی تارا ہے مگر ٹوٹا ہوادل یہ کہتا ہے اسے پاس بلا لوں اپنےاور پھر دیر تلک، دیر تلک باتیں کروںباتوں باتوں میں بکھرنے کا سبب پوچھ لوں میںشاید اس دل کے بکھرنے کا سبب مل جائےیا ہمیں غم سے بہلنے کا سبب مل جائےاسی اثناء میں یہ تاریکیِ شب چھٹ جائے٭٭٭محمد تابش صدی...
اتوار، 11 اکتوبر، 2020
نظم: بِنائے امید
بِنائے امید٭کبھی جب زندگی کی تلخیاں مجھ کو ستاتی ہیںکبھی ناکام ہونے پر قدم جب لڑکھڑاتے ہیںکبھی مایوس ہو کر جب میں ہمت ہار جاتا ہوںکبھی جب کوئی غم دل پر اثر اپنا دکھاتا ہےتو ایسے میںکلامِ پاک میں اللہ کا فرماںمجھے پھر یاد آتا ہےمری ہمت بندھاتا ہےامید اک یہ دلاتا ہے”کسی انسان پر اللہ کوئی بوجھ اس کی تاب سے بڑھ کر نہیں رکھتا“کوئی بھی غم ہو یا مشکل،کوئی تلخی کہ ناکامیمری برداشت کی حد سے زیادہ ہو نہیں سکتی٭محمد تابش صدی...
جمعرات، 23 اپریل، 2020
نظم: زنگ آلود بینچ
نظم: زنگ آلود بینچ
٭
باغ میں زنگ آلود اک بینچ پر
کچھ فسانے لکھے ہیں، بہت پُر اثر
کتنے آنسو بہائے گئے ہیں یہاں
کتنے ہی غم بھلائے گئے ہیں یہاں
خواب کتنے سجائے گئے ہیں یہاں
کتنے ہی پَل بِتائے گئے ہیں یہاں
کوئی آتا ہے آنسو بہا جاتا ہے
کوئی سنگت کے لمحے بِتا جاتا ہے
کوئی خواب اپنے سارے سنا جاتا ہے
کوئی شب رَو بچھونا بنا جاتا ہے
بینچ غمخوار ہے غم کے ماروں کا بھی
اور ہمراز ہے کتنے یاروں کا بھی
بینچ بستر ہے بے روزگاروں کا بھی
اور پڑاؤ پرندوں کی ڈاروں کا بھی
آؤ بیٹھیں، دکھوں کی...
اتوار، 26 جنوری، 2020
دی لیڈر میکرز اینڈ الیکشن کمیشن ایجنٹس(لمیٹڈ) ٭ نعیم صدیقیؒ
یہ مضمون محترم نعیم صدیقیؒ کے طنزیہ مضامین پر مشتمل کتاب دفترِ بے معنی سے لیا گیا۔ جو 1955ء میں شائع ہوئی۔ لیکن مضمون یوں لگتا ہے کہ آج ہی لکھا گیا۔ مضمون طویل ہے، مگر پڑھنے لائق ہے۔
دی لیڈر میکرز اینڈ الیکشن کمیشن ایجنٹس(لمیٹڈ)
٭
سلسلہ اعلانات (1)
ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں یہ ہماری پہلی لمیٹڈ فرم ہے۔ جس نے پیمانۂ کبیر(large scale) پر قائد سازی کا باقاعدہ کاروبار اول درجے کے ماہرین کے ذریعے شروع کر دیا ہے. واضح رہے کہ ہمارے ہاں ٹوٹے پھوٹے لیڈروں کی "مرمت" بھی کی جاتی...
بدھ، 1 جنوری، 2020
غزل: لوگ خوش ہیں کہ سال بدلے گا
لوگ خوش ہیں کہ سال بدلے گا
کیا ہمارا یہ حال بدلے گا؟
ہو گئے ہر ستم کے ہم عادی
اب تو ظالم ہی چال بدلے گا
دل بدلتا نہیں ہے کہنے سے
اشکِ توبہ میں ڈھال، بدلے گا
کون بدلے گا ملک کے حالات؟
کیا کبھی یہ سوال بدلے گا؟
ہم نے بدلی نہیں رَوِش تابشؔ
کیسے کہہ دوں مآل بدلے گا
٭٭٭
محمد تابش صدیقی...