حمد(آیت الکرسی کا منظوم مفہوم)٭وہ ہے اللہ، یکتا و تنہا خداہے نہیں کوئی معبود اُس کے سواوہ ہے زندہ سدا، سب سنبھالے ہوئےجو کہ سوتا نہیں اور نہ ہے اونگھتاہے اُسی کا جو کچھ آسمانوں میں ہےاور زمیں میں بھی سب کچھ ہے اللہ کاکون ہے جو کسی کی شفاعت کرےسامنے اُس کے، اُس کی اجازت بناجانتا ہے وہ، جو سامنے سب کے ہےاور اُس سے بھی واقف ہے، جو ہے چھپاعلم حاصل نہ کوئی ذرا کر سکےپر وہی علم، جتنا کہ چاہے خداآسمانوں پہ اور کرۂ ارض پرچار سُو ہے محیط، اقتدارِ خداپاسبانی سے اِن کی وہ تھکتا نہیںوہ ہے سب سے بلند...
منگل، 6 اپریل، 2021
جمعہ، 19 مارچ، 2021
حمد: خالقِ کن فکاں، مالکِ دو جہاں
خالقِ کن فکاں، مالکِ دو جہاںکوئی کیسے کرے حمدِ کامل بیاںیہ زمین و زماں، یہ مکاں لامکاںتیرے جلووں کی پیہم نمائش یہاںرنگ تیرے ہی بکھرے کراں تا کراںبرگ و بار و حجر، ریگ و آبِ رواںتیری ہی کبریائی کا اعلان اذاںہے ترا ذکر ہی ہر گھڑی، ہر زماںچاند، سورج، ستاروں بھری کہکشاںہے تری آیتوں سے بھرا آسماںہے خدائی تری موسموں سے عیاںہو وہ گرما و سرما، بہار و خزاںتو جو چاہے، برسنے لگیں بدلیاںتو نہ چاہے تو پیاسا رہے ہر کنواںتیری قدرت کہ پیدا کیے انس و جاںآگ، پانی، ہوا اور مٹی سے یاںتیری رحمت سے وہ ہو گئے بے...
جمعرات، 11 مارچ، 2021
غزل: جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایا
جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایاہر نیا زخم ہے اب میرے بدن پر پھایاشمعِ احساس کو ہے ایک شرر کی حسرتبے حسی کا ہے گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایامیں کہ تھا حسنِ رخِ یار کے دیدار سے خوشمیرا خوش رہنا بھی اک آنکھ نہ اُس کو بھایااب تو ہر شخص نظر آتا ہے مجھ سے بہترجب سے اپنے بُتِ پندار کو میں نے ڈھایاجب بھی ناکام ہوا میں، تو پکارا اس کواس نے الجھا ہوا ہر کام مرا سلجھایاوادیِ عشق کا رستہ بھی ہے منزل تابشؔمیں نے دل کو ہے بہت بار یہی سمجھایا٭٭٭محمد تابش صدیق...
منگل، 23 فروری، 2021
غزل: زمانے سے اخلاق و کردار گم ہے
زمانے سے اخلاق و کردار گم ہےہوس اور مطلب میں ایثار گم ہےشجر کی جگہ جب سے لی ہے حجر نےاب آنگن سے چڑیوں کی چہکار گم ہےمیں عدسہ اٹھا کر خبر ڈھونڈتا ہوںکہ اب اشتہاروں میں اخبار گم ہےہوا بے وفائی کی ایسی چلی ہےوفا کی طلب ہے، وفادار گم ہےبچائے کوئی ناخدا بھی تو کیسےکہ امت کی نیّا کی پتوار گم ہےہوئی بزدلی رہنماؤں پہ طاریکہ سر تو سلامت ہے، دستار گم ہےنہیں کوئی جو ظلم کو ظلم کہہ دےزبانیں ہیں موجود، اظہار گم ہےبنی زندگی دوڑ سرمایے کی ابزیادہ کی خواہش میں معیار گم ہےسرابوں کے ہم ہیں تعاقب میں تابشؔہمارے...
جمعہ، 19 فروری، 2021
نظم: اَفشُوا السَّلام (سلام کو عام کرو)
اَفشُوا السَّلام (سلام کو عام کرو)٭جب بھی مِلو کسی سے تو یہ اہتمام ہوملتے ہی السلامُ علیکم کہا کرواَفشُوا السَّلام قولِ رسولِ کریمؐ ہےیعنی سلام کو تم باہم رواج دودراصل السلامُ علیکم ہے اک دعا’تم پر سلامتی ہو‘، اُردو میں گر کہوکرنا پہل سلام میں افضل ترین ہےکر دے کوئی سلام تو بہتر جواب دورستے پہ چل رہے ہو کہ بیٹھے ہو بزم میںکرتے رہو سلام اسے، جس سے بھی ملوتابشؔ! سلام کرنے سے بڑھتی ہیں نیکیاںاچھا! یہ نیک کام تو پھر بار بار ہو٭٭٭محمد تابش صدی...
بدھ، 17 فروری، 2021
غزل: نشانِ منزلِ الفت سراب جیسا ہے
نشانِ منزلِ الفت سراب جیسا ہےنہیں ہے کوئی حقیقت، یہ خواب جیسا ہےطویل ہوتی چلی جائے ہے شبِ فرقتیہ انتظارِ سحر تو عذاب جیسا ہےستم شعار سہی، غیر پر نثار سہیوہ ہے تو اپنا ہی، خانہ خراب، جیسا ہےسنے ہیں راہِ محبت کے سینکڑوں قصےیہ راستہ ہی دکھوں کی کتاب جیسا ہےوہ ہم سے مل کے بھی پوچھے رقیب کی بابتیہ ہے سوال مگر خود جواب جیسا ہےلگے ہے جادۂ منزل بھی ہوبہو منزلگلاب ہے تو نہیں، پر گلاب جیسا ہےمتاعِ عیش و طرب ہی میں گم نہ ہو تابشؔیہ عالمِ گُزَراں اک حباب جیسا ہے٭٭٭محمد تابش صدیق...
ہفتہ، 23 جنوری، 2021
غزل: بہہ گئے خواہشوں کے ریلے میں
بہہ گئے خواہشوں کے ریلے میںہم ہیں گم زندگی کے میلے میںاپنا پندار ٹوٹ جائے گاخود سے ملیے کبھی اکیلے میںحسنِ کردار جیسی میٹھی مہکہے نہ گیندے میں اور بیلے میںبات کرنے سے پہلے سوچے بھی؟کون پڑتا ہے اس جھمیلے میںاب تماشا ہے جا بجا تابشؔپہلے ہوتا تھا میلے ٹھیلے میں٭٭٭محمد تابش صدیق...