زمانے سے اخلاق و کردار گم ہےہوس اور مطلب میں ایثار گم ہےشجر کی جگہ جب سے لی ہے حجر نےاب آنگن سے چڑیوں کی چہکار گم ہےمیں عدسہ اٹھا کر خبر ڈھونڈتا ہوںکہ اب اشتہاروں میں اخبار گم ہےہوا بے وفائی کی ایسی چلی ہےوفا کی طلب ہے، وفادار گم ہےبچائے کوئی ناخدا بھی تو کیسےکہ امت کی نیّا کی پتوار گم ہےہوئی بزدلی رہنماؤں پہ طاریکہ سر تو سلامت ہے، دستار گم ہےنہیں کوئی جو ظلم کو ظلم کہہ دےزبانیں ہیں موجود، اظہار گم ہےبنی زندگی دوڑ سرمایے کی ابزیادہ کی خواہش میں معیار گم ہےسرابوں کے ہم ہیں تعاقب میں تابشؔہمارے...
منگل، 23 فروری، 2021
جمعہ، 19 فروری، 2021
نظم: اَفشُوا السَّلام (سلام کو عام کرو)
اَفشُوا السَّلام (سلام کو عام کرو)٭جب بھی مِلو کسی سے تو یہ اہتمام ہوملتے ہی السلامُ علیکم کہا کرواَفشُوا السَّلام قولِ رسولِ کریمؐ ہےیعنی سلام کو تم باہم رواج دودراصل السلامُ علیکم ہے اک دعا’تم پر سلامتی ہو‘، اُردو میں گر کہوکرنا پہل سلام میں افضل ترین ہےکر دے کوئی سلام تو بہتر جواب دورستے پہ چل رہے ہو کہ بیٹھے ہو بزم میںکرتے رہو سلام اسے، جس سے بھی ملوتابشؔ! سلام کرنے سے بڑھتی ہیں نیکیاںاچھا! یہ نیک کام تو پھر بار بار ہو٭٭٭محمد تابش صدی...
بدھ، 17 فروری، 2021
غزل: نشانِ منزلِ الفت سراب جیسا ہے
نشانِ منزلِ الفت سراب جیسا ہےنہیں ہے کوئی حقیقت، یہ خواب جیسا ہےطویل ہوتی چلی جائے ہے شبِ فرقتیہ انتظارِ سحر تو عذاب جیسا ہےستم شعار سہی، غیر پر نثار سہیوہ ہے تو اپنا ہی، خانہ خراب، جیسا ہےسنے ہیں راہِ محبت کے سینکڑوں قصےیہ راستہ ہی دکھوں کی کتاب جیسا ہےوہ ہم سے مل کے بھی پوچھے رقیب کی بابتیہ ہے سوال مگر خود جواب جیسا ہےلگے ہے جادۂ منزل بھی ہوبہو منزلگلاب ہے تو نہیں، پر گلاب جیسا ہےمتاعِ عیش و طرب ہی میں گم نہ ہو تابشؔیہ عالمِ گُزَراں اک حباب جیسا ہے٭٭٭محمد تابش صدیق...