جمعرات، 1 ستمبر، 2022

حمدِ باری تعالیٰ (موضوع: عفو)

0 تبصرے
حمدِ باری تعالیٰ (موضوع: عفو)
٭
اے خدا! اک گنہگار بندہ ہوں میں
تجھ سے بخشش کی اُمّید رکھتا ہوں میں

تجھ کو انسان کا لَوٹ آنا پسند
تجھ کو اشکِ ندامت بہانا پسند

میں ہوں نادم کہ بے حد خطاکار ہوں
تیری عفو و عطا کا طلَبگار ہوں

میری خامی کہ ہوتی رہی ہے خطا
تیری خوبی کہ بخشا ہے تُو نے سَدا

ہے گناہوں کی دلدل میں تابشؔ دھنسا
تھام لے ہاتھ اور سیدھے رستے چلا
٭٭٭
محمد تابش صدیقی

منگل، 6 اپریل، 2021

حمد (آیت الکرسی کا منظوم مفہوم)

0 تبصرے
 حمد
(آیت الکرسی کا منظوم مفہوم)
٭
وہ ہے اللہ، یکتا و تنہا خدا
ہے نہیں کوئی معبود اُس کے سوا
وہ ہے زندہ سدا، سب سنبھالے ہوئے
جو کہ سوتا نہیں اور نہ ہے اونگھتا
ہے اُسی کا جو کچھ آسمانوں میں ہے
اور زمیں میں بھی سب کچھ ہے اللہ کا
کون ہے جو کسی کی شفاعت کرے
سامنے اُس کے، اُس کی اجازت بنا
جانتا ہے وہ، جو سامنے سب کے ہے
اور اُس سے بھی واقف ہے، جو ہے چھپا
علم حاصل نہ کوئی ذرا کر سکے
پر وہی علم، جتنا کہ چاہے خدا
آسمانوں پہ اور کرۂ ارض پر
چار سُو ہے محیط، اقتدارِ خدا
پاسبانی سے اِن کی وہ تھکتا نہیں
وہ ہے سب سے بلند اور سب سے بڑا
٭٭٭
محمد تابش صدیقی

جمعہ، 19 مارچ، 2021

حمد: خالقِ کن فکاں، مالکِ دو جہاں

0 تبصرے
 خالقِ کن فکاں، مالکِ دو جہاں
کوئی کیسے کرے حمدِ کامل بیاں

یہ زمین و زماں، یہ مکاں لامکاں
تیرے جلووں کی پیہم نمائش یہاں

رنگ تیرے ہی بکھرے کراں تا کراں
برگ و بار و حجر، ریگ و آبِ رواں

تیری ہی کبریائی کا اعلان اذاں
ہے ترا ذکر ہی ہر گھڑی، ہر زماں

چاند، سورج، ستاروں بھری کہکشاں
ہے تری آیتوں سے بھرا آسماں

ہے خدائی تری موسموں سے عیاں
ہو وہ گرما و سرما، بہار و خزاں

تو جو چاہے، برسنے لگیں بدلیاں
تو نہ چاہے تو پیاسا رہے ہر کنواں

تیری قدرت کہ پیدا کیے انس و جاں
آگ، پانی، ہوا اور مٹی سے یاں

تیری رحمت سے وہ ہو گئے بے نشاں
آئے رستے میں جو سنگ ہائے گراں

ہے سبق یہ ہی قرآن میں بے گماں
صرف تیری رضا ہے کلیدِ جناں

کامیابی اِسی میں ہے تابشؔ نہاں
ذکر ہر دم اُسی کا ہو وردِ زباں
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

جمعرات، 11 مارچ، 2021

غزل: جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایا

0 تبصرے
 جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایا
ہر نیا زخم ہے اب میرے بدن پر پھایا

شمعِ احساس کو ہے ایک شرر کی حسرت
بے حسی کا ہے گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا

میں کہ تھا حسنِ رخِ یار کے دیدار سے خوش
میرا خوش رہنا بھی اک آنکھ نہ اُس کو بھایا

اب تو ہر شخص نظر آتا ہے مجھ سے بہتر
جب سے اپنے بُتِ پندار کو میں نے ڈھایا

جب بھی ناکام ہوا میں، تو پکارا اس کو
اس نے الجھا ہوا ہر کام مرا سلجھایا

وادیِ عشق کا رستہ بھی ہے منزل تابشؔ
میں نے دل کو ہے بہت بار یہی سمجھایا

٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

منگل، 23 فروری، 2021

غزل: زمانے سے اخلاق و کردار گم ہے

0 تبصرے
 زمانے سے اخلاق و کردار گم ہے
ہوس اور مطلب میں ایثار گم ہے

شجر کی جگہ جب سے لی ہے حجر نے
اب آنگن سے چڑیوں کی چہکار گم ہے

میں عدسہ اٹھا کر خبر ڈھونڈتا ہوں
کہ اب اشتہاروں میں اخبار گم ہے

ہوا بے وفائی کی ایسی چلی ہے
وفا کی طلب ہے، وفادار گم ہے

بچائے کوئی ناخدا بھی تو کیسے
کہ امت کی نیّا کی پتوار گم ہے

ہوئی بزدلی رہنماؤں پہ طاری
کہ سر تو سلامت ہے، دستار گم ہے

نہیں کوئی جو ظلم کو ظلم کہہ دے
زبانیں ہیں موجود، اظہار گم ہے

بنی زندگی دوڑ سرمایے کی اب
زیادہ کی خواہش میں معیار گم ہے

سرابوں کے ہم ہیں تعاقب میں تابشؔ
ہمارے یہاں چشمِ بیدار گم ہے

٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

جمعہ، 19 فروری، 2021

نظم: اَفشُوا السَّلام (سلام کو عام کرو)

0 تبصرے
 اَفشُوا السَّلام (سلام کو عام کرو)
٭
جب بھی مِلو کسی سے تو یہ اہتمام ہو
ملتے ہی السلامُ علیکم کہا کرو

اَفشُوا السَّلام قولِ رسولِ کریمؐ ہے
یعنی سلام کو تم باہم رواج دو

دراصل السلامُ علیکم ہے اک دعا
’تم پر سلامتی ہو‘، اُردو میں گر کہو

کرنا پہل سلام میں افضل ترین ہے
کر دے کوئی سلام تو بہتر جواب دو

رستے پہ چل رہے ہو کہ بیٹھے ہو بزم میں
کرتے رہو سلام اسے، جس سے بھی ملو

تابشؔ! سلام کرنے سے بڑھتی ہیں نیکیاں
اچھا! یہ نیک کام تو پھر بار بار ہو

٭٭٭
محمد تابش صدیقی

بدھ، 17 فروری، 2021

غزل: نشانِ منزلِ الفت سراب جیسا ہے

0 تبصرے

 نشانِ منزلِ الفت سراب جیسا ہے

نہیں ہے کوئی حقیقت، یہ خواب جیسا ہے


طویل ہوتی چلی جائے ہے شبِ فرقت

یہ انتظارِ سحر تو عذاب جیسا ہے


ستم شعار سہی، غیر پر نثار سہی

وہ ہے تو اپنا ہی، خانہ خراب، جیسا ہے


سنے ہیں راہِ محبت کے سینکڑوں قصے

یہ راستہ ہی دکھوں کی کتاب جیسا ہے


وہ ہم سے مل کے بھی پوچھے رقیب کی بابت

یہ ہے سوال مگر خود جواب جیسا ہے


لگے ہے جادۂ منزل بھی ہوبہو منزل

گلاب ہے تو نہیں، پر گلاب جیسا ہے


متاعِ عیش و طرب ہی میں گم نہ ہو تابشؔ

یہ عالمِ گُزَراں اک حباب جیسا ہے

٭٭٭

محمد تابش صدیقی​

ہفتہ، 23 جنوری، 2021

غزل: بہہ گئے خواہشوں کے ریلے میں

0 تبصرے
 بہہ گئے خواہشوں کے ریلے میں
ہم ہیں گم زندگی کے میلے میں

اپنا پندار ٹوٹ جائے گا
خود سے ملیے کبھی اکیلے میں

حسنِ کردار جیسی میٹھی مہک
ہے نہ گیندے میں اور بیلے میں

بات کرنے سے پہلے سوچے بھی؟
کون پڑتا ہے اس جھمیلے میں

اب تماشا ہے جا بجا تابشؔ
پہلے ہوتا تھا میلے ٹھیلے میں
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

بدھ، 23 دسمبر، 2020

نظم: اسلامی جمعیت طلبہ کی نذر

0 تبصرے
اسلامی جمعیت طلبہ کی نذر
٭
ایک عزمِ جواں ہے جمعیت
ایک کوہِ گراں ہے جمعیت

اس کا مقصد ہے خاص رب کی رضا
یوں کلیدِ جِناں ہے جمعیت

ہر زمانہ ہے فیض یاب اس سے
ایک چشمہ رواں ہے جمعیت

یوں سنوارے ہیں سیرت و کردار
جیسے اک باغباں ہے جمعیت

ہر کوئی ہے شریکِ رنج و خوشی
گویا اک خانداں ہے جمعیت

بے تکلف، معاون و بے لوث 
محفلِ دوستاں ہے جمعیت

شکر تابشؔ ادا کرو رب کا
نعمتِ بے کراں ہے جمعیت
٭٭٭
محمد تابش‎ صدیقی

جمعرات، 17 دسمبر، 2020

غزل: سن کے گھبرا گئے تھے جو نامِ خزاں ٭ تابش

0 تبصرے
 سن کے گھبرا گئے تھے جو نامِ خزاں
آ گئی راس ان کو بھی شامِ خزاں

ہم بہاروں سے مایوس کیا ہو گئے
دیس میں بڑھ گئے یونہی دامِ خزاں

غم ضروری ہے قدرِ خوشی کے لیے
ہے یہی غمزدوں کو پیامِ خزاں

دن بہاروں کے آ کر چلے بھی گئے
ہم تو کرتے رہے اہتمامِ خزاں

گر کلامِ بہاراں ہے گل کی مہک
تو ہے پتوں کی آہٹ کلامِ خزاں

سوکھے پتے نہ کچلو یوں پیروں تلے
کچھ تو تابشؔ کرو احترامِ خزاں
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

نظم: ٹوٹا ہوا تارا ٭ تابش

0 تبصرے

 نظم: ٹوٹا ہوا تارا

٭​

رات خاموش ہے، تاریک فضا ہے ہر سو
دور افق پر کوئی تارا ہے مگر ٹوٹا ہوا
دل یہ کہتا ہے اسے پاس بلا لوں اپنے
اور پھر دیر تلک، دیر تلک باتیں کروں
باتوں باتوں میں بکھرنے کا سبب پوچھ لوں میں
شاید اس دل کے بکھرنے کا سبب مل جائے
یا ہمیں غم سے بہلنے کا سبب مل جائے
اسی اثناء میں یہ تاریکیِ شب چھٹ جائے

٭٭٭

محمد تابش صدیقی

اتوار، 11 اکتوبر، 2020

نظم: بِنائے امید

0 تبصرے

بِنائے امید

٭​

کبھی جب زندگی کی تلخیاں مجھ کو ستاتی ہیں

کبھی ناکام ہونے پر قدم جب لڑکھڑاتے ہیں

کبھی مایوس ہو کر جب میں ہمت ہار جاتا ہوں

کبھی جب کوئی غم دل پر اثر اپنا دکھاتا ہے

تو ایسے میں

کلامِ پاک میں اللہ کا فرماں

مجھے پھر یاد آتا ہے

مری ہمت بندھاتا ہے

امید اک یہ دلاتا ہے

”کسی انسان پر اللہ کوئی بوجھ اس کی تاب سے بڑھ کر نہیں رکھتا“

کوئی بھی غم ہو یا مشکل،

کوئی تلخی کہ ناکامی

مری برداشت کی حد سے زیادہ ہو نہیں سکتی

٭

محمد تابش صدیقی

جمعرات، 23 اپریل، 2020

نظم: زنگ آلود بینچ

0 تبصرے
نظم: زنگ آلود بینچ
٭

باغ میں زنگ آلود اک بینچ پر
کچھ فسانے لکھے ہیں، بہت پُر اثر

کتنے آنسو بہائے گئے ہیں یہاں
کتنے ہی غم بھلائے گئے ہیں یہاں
خواب کتنے سجائے گئے ہیں یہاں
کتنے ہی پَل بِتائے گئے ہیں یہاں

کوئی آتا ہے آنسو بہا جاتا ہے
کوئی سنگت کے لمحے بِتا جاتا ہے
کوئی خواب اپنے سارے سنا جاتا ہے
کوئی شب رَو بچھونا بنا جاتا ہے

بینچ غمخوار ہے غم کے ماروں کا بھی
اور ہمراز ہے کتنے یاروں کا بھی
بینچ بستر ہے بے روزگاروں کا بھی
اور پڑاؤ پرندوں کی ڈاروں کا بھی

آؤ بیٹھیں، دکھوں کی کہانی سنیں
یا پرندوں کی باتیں سہانی سنیں
کوئی تازہ کہیں، کچھ پرانی سنیں
بینچ کے بازوؤں کی زبانی سنیں

باغ میں زنگ آلود اک بینچ پر
کچھ فسانے لکھے ہیں، بہت پُر اثر
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

اتوار، 26 جنوری، 2020

دی لیڈر میکرز اینڈ الیکشن کمیشن ایجنٹس(لمیٹڈ) ٭ نعیم صدیقیؒ

0 تبصرے
یہ مضمون محترم نعیم صدیقیؒ کے طنزیہ مضامین پر مشتمل کتاب دفترِ بے معنی سے لیا گیا۔ جو 1955ء میں شائع ہوئی۔ لیکن مضمون یوں لگتا ہے کہ آج ہی لکھا گیا۔ مضمون طویل ہے، مگر پڑھنے لائق ہے۔

دی لیڈر میکرز اینڈ الیکشن کمیشن ایجنٹس(لمیٹڈ)

٭​

سلسلہ اعلانات (1)
ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں یہ ہماری پہلی لمیٹڈ فرم ہے۔ جس نے پیمانۂ کبیر(large scale) پر قائد سازی کا باقاعدہ کاروبار اول درجے کے ماہرین کے ذریعے شروع کر دیا ہے. واضح رہے کہ ہمارے ہاں ٹوٹے پھوٹے لیڈروں کی "مرمت" بھی کی جاتی ہے۔ اور زنگ خورده شہرت کو ترقی یافتہ ذرائع سے پالش کر کے پبلک کا اعتماد بحال کر دیا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں الیکشن کے کاروبار میں ہماری فرم بطور کمیشن ایجنٹ ہر اس شخص کی خدمت کرنے کو تیار ہے۔ جو تھوڑے سرمایہ کے صرف سے قومی مناصب پر قبضہ کرنا چاہتا ہو۔
_____
یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ سابق لیڈر میدان بدر ہو چکے ہیں اور نئے لوگوں کے لیے راستے کھل گئے ہیں۔ قیادت و سیادت کی نئی منڈی لگنے ہی والی ہے۔ اور اس کے انعقاد میں بہت کم وقت باقی ہے۔ یہ موقع بڑا زریں موقع ہے۔ اس پر آپ بہت بن سکتے ہیں۔ اور اپنا سیاسی کاروبار چمکا سکتے ہیں۔ آپ کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ہماری فرم کی بنیاد رکھی گئی ہے. آپ ہم سے معاملہ کریں۔ تو پھر آپ ایک ایک اخبار نویس اور سیاسی ورکر اور ووٹر کی منت سماجت کرتے پھرنے سے بے نیاز ہو جائیں گے۔
_____
ہمارے ہاں قاعدہ یہ ہے۔ کہ لیڈری یا کسی منصب کے ایک امیدوار سے معاملہ طے ہو جاتا ہے تو پھر اس کے حریفوں میں سے کسی سے ہم تعلق نہیں رکھ سکتے۔ بلکہ ان کو شکست دینا فرم کے ذمے واجب ہو جاتا ہے۔ پس آپ براہِ کرم جلدی اور قریب ترین فرصت میں ہم سے معاملہ کر لیں۔ تاکہ آپ کے حریف کہیں آپ سے پہلے بات چکا نہ بیٹھیں۔
ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ جس طرح آپ کو کامیاب کرانے کی صورت میں ہم آپ سے فیس لیں گے۔ اسی طرح ناکامی کی صورت میں ہم آپ کو ہرجانہ ادا کریں گے۔ اس طرح گویا آپ کی کامیابی کا بالکل بیمہ ہو جائے گا۔
_____
ہمارے متعلق یہ بات آج ہی سمجھ لیجیے کہ ہم جس سائنٹیفک اور منظم طریق سے کام شروع کر رہے ہیں۔ اس کے ذریعے ہم چاہیں تو کودن سے کودن کو لیڈر بنا سکتے ہیں۔ اور ہمارے لیے یہ مشکل نہیں ہے کہ ہم کسی چور اور ڈاکو کو وزارت جیسا اونچا منصب دلوا دیں۔ پس مایوسی کی کوئی وجہ نہیں آپ چاہے کتنے ہی " از کار رفتہ" ہوں ہم آپ کو سو فیصدی کامیابی کی ضمانت دیں گے۔
بالفرض اگر کسی وجہ سے آپ ہماری یکمشت رقم نقد ادا نہ کر سکیں تو فرم نے اس کی گنجائش رکھی ہے کہ آپ مطلوبہ عہدہ پا لینے کے بعد اس سے جو کمائی کریں۔ اس میں سے بالاقساط حساب بے باک کرتے رہیں۔ مگر اس طرز عمل کے لیے اونچی ساکھ والے چار ضمانتی آپ کو فراہم کرنے ہوں گے۔
_____
ہماری فیسیں اور چارجز بہت کم ہیں۔ ایک دفعہ تجربہ کرنے کے بعد آپ مستقل معاملہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔
لیڈری اور الیکشن کے جملہ مسائل میں ہمارے ماہرین آپ کو کم سے کم معاوضوں پر قیمتی مشورے دینے کو ہر وقت تیار ہیں۔ خط و کتابت یا ملاقات دونوں صورتوں میں سے جس میں آپ کو سہولت ہو اختیار کر سکتے ہیں۔
فرم اگرچہ بڑی حد تک اپنی مستقل ضرورت کا عله بھرتی کر چکی ہے لیکن آنے والے الیکشن کی ہنگامی ضروریات کے پیش نظر حسب ذیل عارضی آسامیاں ہمارے ہاں موجود ہیں۔ ضرورت مند اصحاب توجہ کریں۔
1۔ جوڑ توڑ کے فنِ لطیف کے ماہرین کی آسامیاں ہیں۔ ایسے لوگ درخواستیں دیں۔ جو پارٹی بندی اور افتراق انگیزی کا وسیع تجربہ رکھتے ہوں۔
2۔ ہمیں تین ایسے اعلیٰ درجے کے ادیب درکار ہیں۔ جو فرم کی ایڈورٹائزمنٹ اور الیکشن پروپیگنڈا کے لیے اشتہارات اور مضامین لکھ کے دے سکیں۔ نیز فرضی ناموں سے سیاسی مقالے نظمیں اور افسانے اشاعت کے لیے دے سکیں۔
3۔ دو اچھے کارٹونسٹ درکار ہیں۔ جو فرم کے مؤکلوں کے مخالفین پر اپنے کارٹونوں کے ذریعے کیچڑ اچھال سکیں۔
4۔ ایک ڈیزائنر برائے اشتہارات درکار ہے۔
5۔ دو ایسے ماہرینِ نفسیات کی ضرورت ہے، جو پبلک کو بیوقوف بنانے کے لیے فرم کو اور اس کے مؤکلوں کو بوقت ضرورت مشورے دے سکیں۔ لیڈری اور عہدوں کے امیدواروں کی شخصیت کی تعمیر اور مرمت میں مدد بہم پہنچا سکیں۔
6۔ چار ایسے تجربہ کار سیاسی ورکر مطلوب ہیں ۔ جو حالات کے مطابق پبلک پر اثر ڈالنے کے لیے نعرے گھڑ کے دے سکیں۔ اور ان کی ترکیبِ استعمال فرم کے مؤکلوں کو سکھا سکیں۔
7۔ دو ایسے مولویوں کو بھرتی کیا جائے جو قرآن کی آیات اور مسلم شریف، بخاری شریف کی ایسی احادیث منتخب کر دیں جن کو لیڈری اور وزارت کے امیدوار بوقتِ ضرورت استعمال کر سکیں۔ آیات اور احادیث کو توڑنے موڑنے اور ان سے من مانے معنی نکالنے کا فن جاننے والے اصحاب بھی درخواستیں دیں۔
8۔ اخبار نویس حضرات میں سے جو بھی اپنی خدمات فرم کو سونپنے پر تیار ہوں۔ ٹھیکہ کے اصول پر معاملہ کر سکتے ہیں۔
9۔ وہ تمام حضرات جو لیڈری اور الیکشن کی منڈیوں میں سالہا سال سے انفرادی طور پر کمیشن ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہوں۔ اپنی خدمات فرم کے حوالے کر سکتے ہیں۔ وہ اگر چاہیں تو معاملہ کمیشن کے اصول پر طے ہو جائے گا۔ اور اگر وہ تنخواہ یا ٹھیکے کا اصول پسند کریں گے تو فرم اس کے لیے بھی حاضر ہے۔ بہرحال اب ایک فرم وجود میں آ چکی ہے۔ انفرادی دلالی کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ لہٰذا موقع ہے کہ بروقت ہم سے معاملہ کر لیا جائے۔
نوٹ: فرم کی طرف سے پورا اطمینان دلایا جاتا ہے کہ ہر معاملہ بالکل خفیہ رہے گا۔ اور کسی کارندے سے فرم اپنے مخصوص ربط کو آشکارا نہیں کرے گی۔ آپ پورے بھروسے کے ساتھ دماغ اور ضمیر کرائےپر چڑھا سکتے ہیں۔
نیاز مند: ”ا۔ ب۔ ج“
(مینیجر دی لیڈر میکرز اینڈ الیکشن کمیشن ایجنٹس لمیٹڈ)​

سلسلۂ اعلانات(2)
ہمارا پہلا اعلان پڑھنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ فرم کے تمام انتظامات مکمل ہو چکے ہیں اور کام چالو ہے۔

ہم لیڈر بناتے ہیں!
واضح رہے کہ مغربی پنجاب میں لیڈری کا خاص دور(season) قبل از وقت شروع ہو چکا ہے اس لیے جن اصحاب کو سیاسی کاروبار میں حصہ لینا ہو وہ بروقت مارکیٹ میں مناسب مقام حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ نئے لیڈروں کی مانگ اس مرتبہ بڑھی ہوئی ہے لہٰذا شائقین اپنے آپ کو ہمارے کارخانے میں لا کر لیڈری کے اوصاف کی جلد از جلد تکمیل کرا لیں۔ ہم جدید ترین مشینوں اور ماہر ترین انجینئروں کی مدد سے نوک پلک بنا کر آپ کو ایک اپ ٹو ڈیٹ لیڈر کی شکل میں بدل دیں گے۔ ہمارا فن لطیف بالکل وہ کرشمہ دکھاتا ہے۔ جیسے کسی مغربی نگار خانے میں ایک پھوکٹ بڑھيا داخل ہوتی ہے اور چند منٹ کے بعد نکلتی ہے تو ایک ایسی نوجوان عورت کا چہرہ لے کر نکلتی ہے جس کے متعلق گمان بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ وہی پیرزالہ ہیں جو جمالیات کے سحر بنگالہ سے بالکل بدل گئی ہیں ۔ اس سے بالکل نہ گھبرائیے کہ آپ ان پڑھ ہیں آپ کو سیاست کی ابجد بھی معلوم نہیں، آپ کو وجاہت سے قدرت نے محروم رکھا ہے، آپ کے اندر سیرت کا جوہر موجود نہیں ہے، آپ کا ذہن متحرک نہیں ہے۔ ان میں سے کسی چیز کی ضرورت نہیں، صرف روپے کی ضرورت ہے۔ ان چیزوں کی ضرورت تو تب تھی کہ ہم نہیں تھے۔ آپ بے تکلف آئیے اور اعلیٰ درجہ کے لیڈر بن جائیے۔ ہماری فرم کا یہ دعویٰ ہے کہ گدھے اور خچر تک کو ہم ایک کامیاب لیڈر بنوا سکتے ہیں۔ اس کے متعلق ہماری خدمات حاصل کرنے والوں کی بے شمار دستخطی سندات آپ ہمارے شوروم میں ملاحظہ فرما سکیں گے۔

ہم ٹوٹ پھوٹے لیڈروں کی مرمت کرتے ہیں
اس موقع پر ملک میں اور خصوصاً صوبہ مغربی پنجاب میں بہت سے لیڈر مرمت کے محتاج پڑے ہیں ان بیچاروں کو اول تو اموال متروکہ کی لوٹ مار میں ان تھک کام کرنا پڑا، پھر ناجائز الاٹمنٹوں کے معرکے میں بڑی دوڑ دھوپ دکھانی پڑی اور پھر جاہ و منصب کے لئے جہاد بپا ہوا تو اس میں دادِ مردانگی دینی پڑی۔ اس طرح لیڈری کے بہت سے ٹینک ناکارہ ہو کر جنگلوں میں، دلدلوں میں، سڑکوں کے کنارے کھڑے کے کھڑے رہ گئے اور اب ان کو زنگ لگ رہا ہے۔ ملک کی قیمتی دولت کا یہ نقصان ناقابل برداشت ہے۔ اس لیے ہماری فرم نے ان تمام نا کارہ لیڈروں کی مرمت کا قابل اطمینان انتظام بہم پہنچا لیا ہے۔ آناً فاناً ریپئر کی جاتی ہے، گھسے ہوئے پرزے بدل دیے جاتے ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی شخصیت اور زنگ آلود وجاہت کو بالکل تازه بنا دیا جاتا ہے۔ صفائی، پالش اور اوور ہالنگ کا بہترین انتظام ہے۔ آپ اس سے بالکل نہ گھبرائیں کہ پبلک آپ کو ایک مرتبہ رد کر چکی ہے، برسرِ عام گالیاں دیتی ہے اور آپ تقریر کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو "واپس جاؤ" اور "بیٹھ جاؤ" کے نعرے لگاتی ہے۔ آپ اس کی بھی کوئی پروا نہ کیجیے کہ آپ نے خیانتیں کی ہیں، لوگوں کی حق ماریاں کی ہیں اور اخلاق کی انتہائی پستی کا ثبوت دیا ہے۔ آپ کتنے ہی نامقبول ہو چکے ہوں اور آپ کو غنڈے کا درجہ کیوں نہ دے دیا گیا ہو، ہم آپ کو دکھا دیں گے کہ عوام کس آسانی سے بے وقوف بنائے جا سکتے ہیں اور کتنی ہردلعزیزی آپ کو دوبارہ حاصل ہو جاتی ہے۔ آپ محسوس کریں گے کہ زمین آسمان بدل گئے اور آپ کی تقدیر بدل گئی ہے۔ یہ ہے ہمارا فنی اعجاز!

ہم لیڈری کا بیمہ بھی کرتے ہیں
ہماری فرم کا انشورنس ڈیپارٹمنٹ آپ کو روز روز کی پریشانیوں سے ایک قلیل سے ماہانہ چندے کے عوض میں بالکل نجات دلا سکتا ہے۔ ہم آپ کو لیڈری کی مستقل اجارہ داری دلوا سکتے ہیں اور آپ کے لیے قیادت کے خدائی حقوق منوا دینے کی گارنٹی دیتے ہیں۔ اگر آپ مدتِ معیّنہ میں ہم سے بیمہ کرانے کے بعد لیڈری یا کسی منصب سے برطرف کر دیے جائیں تو آپ کی جمع شده رقم سے دس گناه رقم بروئے شرائط ہمیں ادا کرنی ہو گی جس سے آپ اپنی حیثیت بنا سکتے ہیں۔ آپ کو اس کی فکر نہیں کرنی پڑے گی کہ آپ کی کیا حرکات معقولیت، جمہوریت یا اسلام سے متضاد ہیں اور آپ کے کس اقدام سے رائے عامہ بگڑ جائے گی۔ آپ اندھا دھند چلیے۔ یہ ہمارے ذمے ہے کہ ہم آپ کے لیے ماحول کو ساز گار رکھیں۔ ہماری پروپگینڈہ فورس اتنی ہے کہ ہم آپ کے تخت کے پایوں کو کبھی بھی اپنی جگہ سے ہٹنے نہ دیں گے۔ ہم آپ کی نالائقیوں کو کرامات ثابت کر کے دکھائیں گے۔ آپ کی حماقتوں میں حکمت کے لطیف نکات ہم پیدا کریں گے۔ آپ کو لمحہ بہ لمحہ قیمتی مشورے بہم پہنچائیں گے آپ کو خطرات سے ہم خبردار رکھیں گے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری اسباب اور تدابیر خود فراہم کریں گے۔ آپ کو مفید لٹریچر ہم پیش کرتے رہیں گے۔ جب ضرورت ہو گی، آپ کی خدمت میں خود ہمارا مشیر پہنچ جائے گا۔
پرانے لیڈروں اور اکابرِ حکومت سے خاص طور پر خیر خواہانہ گذارش ہے کہ اب ان کے لیے تیزی سے خطرناک حالات پیدا ہورہے ہیں اور قوم ان کو ہٹا کر نئے لیڈر آگے لانے کی تیاری میں ہے۔ لہٰذا وقت پر فکر کیجیے اور ہمارے ہاں اپنی لیڈری یا عہدے کا بیمہ کرا کے خطرات سے بے نیاز ہو جائیے ۔ ورنہ آپ کا جم کے کھڑا رہنا اب آسان نہیں ہے.

ہم الیکشن میں کامیاب کراتے ہیں
اب جو الیکشن درپیش ہے اس میں آپ اگر بازی لڑنا چاہیں تو ہماری خدمات حاصل کیجیے ۔ ہم ایک منصفانہ معاوضہ کے عوض آپ کو کامیابی کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہمارے انتظامات یہ ہیں!
1۔ جہاں ضرورت ہو شامیانے، دریاں، قناتیں، لیمپ، لاؤڈ سپیکر، موٹریں، بسیں ہم خود فراہم کریں گے نیز ووٹروں کی ضیافت کے لیے اچھے سے اچھے کھانے کا انتظام کر کے دیں گے۔
2۔ بہترین قسم کے معیاری اور مؤثر پمفلٹ اور پوسٹ مرتب کرکے دیں گے۔
3۔ آپ کی قصیدہ خوانی اور آپ کے مخالفین کی تذلیل و تحقیر اعلیٰ درجہ کے مقررين فراہم کریں گے۔
4۔ اہل علم حضرات کا لشکر کا لشکر آپ کی تائید میں میدان میں اتار دیں گے۔
5۔ اخبارات کے کالم کرائے پر حاصل کر دیں گے۔ 6۔ آپ کے لیے موزوں ترین حلقۂ انتخاب کی نشان دہی کریں گے۔
7۔ آپ کو ماہرین نفسیات کے ذریعے وہ مسائل متعین کرا کے دیں گے، جن کو چھیڑنا وقت کے رجحانات کے پیشِ نظر کسی خاص علاقے
میں مفید ہے۔
8۔ نفسیاتی اثر رکھنے والے نعرے، فقرے اور اصطلاحات کی نشاندہی کریں گے۔
9۔ آپ کے اندر جھوٹ بولنے، فریب دہی کرنے اور اندھا دھند وعدے کرنے کی اخلاقی جرٲت پیدا کریں گے۔
10۔ ووٹوں کی منڈی میں سودے کرنے کے لیے جغادری دلال استعمال کریں گے۔
11۔ غنڈوں کی ایک بڑی ملیشا ہم آپ کے ساتھ کریں گے۔
ان اسبابِ کامیابی کے ساتھ جب آپ میدان میں آئیں گے تو رن کانپ نہ اٹھے تو ہمارا ذمہ۔

ہمارے وسیع انتظامات
آپ ہمارے کارخانے اور شوروم کر دیکھیں تو اس عجائب گھر میں آپ کو عجیب و غریب انتظامات سے تعارف ہو گا۔ یہاں آپ کو حسبِ ذیل شعبے اپنا کام کرتے ملیں گے۔

شعبۂ شخصیت سازی
یہاں امیدواروں کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ ان کو بڑا آدمی بنے کے لیے لباس کیسا پہننا چاہیے، ان کو کلین شیو کرانا چاہیے یا ڈاڑھی رکھنی چاہیے، ان کو مجالس میں کس طرح بیٹھنا چاہیے، ان کو باتیں کس انداز سے کرنی چاہئیں، ان کو لوگوں سے ملتے جلتے کیا بہروپ بھرنا چاہیے، ان کو پبلک لائف اور پرائیویٹ لائف کے پارٹیشن کو کس طرح مضبوط رکھنا چاہیے، ان کو کیسے لوگوں سے سوسائٹی رکھنی چاہیے۔

شعبۂ تقریر و خطابت
اس شعبہ میں صرف اڑتالیس گھنٹوں میں جدید سائنٹینک طریقوں سے ایک امیدوار کو کامیاب مقرر بنا دیا جاتا ہے۔ اس کی جھجھک ختم کر دی جاتی ہے، اسے وقت کے تقاضوں کے مطابق چند معیاری تقاریر بہم پہنچا دی جاتی ہیں وہ بعد میں رٹ سکتا ہے اور اسے گرم گرم فقرے مطبوعہ شکل میں دے دیے جاتے ہیں اور ان کا محلِ استعمال سکھا دیا جاتا ہے۔
اس شعبہ میں فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کی طرح مقررین کے کئی دستے ہر وقت 15 منٹ کے نوٹس پر کسی جائے واردات پر پہنچ جانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

شعبۂ نشر و اشاعت
اس شعبے کا کام یہ ہے کہ ضرورتمندوں کے لیے لٹریچر، پمفلٹ، پوسٹر، ہینڈبل اور اشتہارات مرتب کرے، اخبارات میں مضامین شائع کرائے، تحریری پروپیگینڈے کا طوفان اٹھا دے۔ جھوٹی خبریں گھڑ گھڑ کے اٹھاتا رہے اور ہمارے گاہکوں کی رہنمائی کے لیے تحریر ی اسباق کا سلسلہ بہم پہنچائے۔ یہ شعبہ آناً فاناً صحافت کی دنیا میں ایک طوفان لا سکتا ہے۔

شعبۂ نفسیات
یہ شعبہ نفسیاتی لمحوں کی نشان دہی کر کے ہمارے گاہکوں کی رہنمائی کرتا ہے، یہ ایک ایک علاقے کے عوام کی نفسیاتی صحت و مرض کا تازہ ریکارڈ پیش نظر رکھتا ہے، یہ وقت وقت کے لئے مؤثر نعرے اور الفاظ تجویز کرتا ہے، یہ جمہور کو بے وقوف بنانے کے فن پر قابلِ اعتماد معلومات جمع کر کے دیتا ہے، یہ کسی لیڈر کی ناکامی کے نفسیاتی وجوہ کا صحیح صحیح تجزیہ کر کے ان کے ازالہ کی تدابیر اختیار کرتا ہے۔
یہ شعبہ امیدواروں کو اس بات کا مشورہ بھی بہم پہنچاتا ہے کہ وہ فرنگی جمہوریت، کمیونزم اور اسلام تینوں میں سے کسی کے ساتھ ہو کر کام کریں۔ نیز وہ ان تینوں دینوں کا مصنوعی لبادہ اوڑھنے کے متعلق ہدایات دیتا ہے اور ساتھ ہی ریہرسل کرانے کے انتظامات بھی کرتا ہے۔
یہ شعبہ لیڈروں کی رہنمانی کرتے ہوئے ان کو وہ تدابیر بتاتا ہے جن کے ذریعے وہ عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹا کر سطحی امور پر منعطف کر سکیں۔ نیز جن کے ذریعے وہ اپنے آپ کو تنقید سے صاف بچا لے جائیں اور کسی کی نگاہ اپنی کمزوریوں کی طرف نہ اٹھنے دیں۔
یہ شعبہ لیڈری کے تحفظ کے لیے جمود اور انتشار پیدا کرنے کے وہ ہتھکنڈے بھی بتاتا ہے جن کا تجربہ تاریخ میں ہمیشہ کامیاب رہا۔

شعبۂ سازشیات
اس پُراسرار شعبے نے موجودہ لیڈروں کے حلقوں میں، اخبار نویسوں میں، علما اور خطیبوں میں، سیاسی جماعتوں کی ورکنگ کمیٹیوں میں ہر طرف اپنے پانچویں کالم کے سپاہیوں کو پھیلا رکھا ہے جن کے ذریعے اپنے گاہکوں کو اندرونی راز حاصل کر کے دیے جاتے ہیں۔ نیز حسب ضرورت جہاں جیسا رجحان پیدا کرنا ہوتا ہے کر لیا جاتا ہے۔ جس موقع پر شرارت اٹھانی ہو اس کی تخم ریزی آسانی سے ہوجاتی ہے۔ الیکشن میں ووٹوں کی خریداری کے لیے بے ایمان دلال اسی شعبے سے فراہم کیے جاتے ہیں۔

شعبۂ غنڈہ گردی
یہ شعبہ نہ صرف یہ کہ آپ کے جلسوں کو کامیاب بنانے کے لیے لٹھ بند حمایتیوں اور نعرہ بازوں کی ایک بڑی تعداد پر جگہ فوری فراہم کر سکتا ہے، بلکہ یہ آپ کے حریفوں کے کسی بھی جلسے میں ہڑبونگ مچانے کے لیے دلیر رضاکار بھی کرائے پر بہم پہنچاتا ہے۔ الیکشن میں آپ اگر اپنے حریفوں کو شکست دینے کے لیے غنڈہ گردی کے ضرورت مند ہوں تو یہ شعبہ اتنی بڑی فوج میدان میں اتار دے گا کہ آپ کے حریفوں کے لیے راستہ چلنا ناممکن ہوجائے گا۔

شعبۂ انٹرویو
یہ شعبہ نئے امیدواروں اور مرمت طلب لیڈروں سے انٹرویو لیتا ہے اور پھر اپنی رپورٹ مرکزی بورڈ کے پاس بھیج دیا ہے جس کے حکم کے مطابق مختلف شعبوں میں ذمہ داریاں تقسیم ہو جاتی ہیں۔

ہم معاوضے منصفانہ لیتے ہیں
فرم کی مذکورہ بالا خدمات میں سے جس کی ضرورت بھی آپ کو درپیش ہو بلا تکلف اس سے فائده اٹھائیے اور تسلی رکھیے کہ معاوضے معقول طلب کیے جاتے ہیں۔ معاوضوں کے متعلق حسبِ ذیل قواعد نگاہ میں رکھیے:۔
1۔ معاوضہ ہم عام حالات میں پیشگی لیتے ہیں، لیکن جس ذمہ داری کو ہم لیں گے اس میں اگر کامیابی نہ ہو تو رقم واپس کر دی جاتی ہے۔
2۔ قابلِ اعتماد ہستیوں کو اگر مالی مشکلات درپیش ہوں تو معقول شخصی ضمانت اور جائدادی کفالت پر قرض کا معاملہ بھی کر لیتے ہیں اور اپنی خدمات کا معاوضہ آپ سے لیڈری اور عہدے کی کمائی حاصل ہونے کے بعد یک مشت یا بالاقساط وصول کر سکتے ہیں۔

آج ہی فارم بھر کے بھیج دیجیے
اگر آپ لیڈری کے نئے نئے شائق ہوں تو حسبِ ذیل سوالات کے جوابات لکھ کر ہمیں بھیج دیجیے تاکہ بروقت معاملہ طے ہو سکے۔
1۔ نام، پتہ، عمر، تعلیم، مطالعہ، سیاسی مسلک وغیرہ کیا ہے (ہو سکے تو فوٹو بھی فراہم کیجیے)
2۔ آپ کو لیڈری کا جنون کب سے ہوا؟
3۔ آپ اپنے لیڈر ہونے کی اہمیت و ضرورت کو کس درجے میں محسوس کرتے ہیں؟ یعنی اگر آپ لیڈر بن جائیں تو آپ کے خیال میں دنیا کی کون سی بگڑی بن جائے گی اور نہ بن سکیں تو آسمان کس حد تک ٹوٹ پڑے گا اور زمین کس حد تک پھٹ جائے گی؟
4۔ لیڈری کے لیے جن اخلاقی پستوں کی عام طور پر ضرورت ہوتی ہے ان میں سے کس کس کی اہمیت کو جانتے ہیں اور اس میں کیا کچھ دستگاہ رکھتے ہیں؟
5۔ قوم پر کون سا نیا ستم ڈھانے کی اسکیمیں آپ نے مرتب کر رکھی ہیں؟
6۔ آپ کے خاندان، حلقۂ احباب اور علاقے کے لوگ آپ کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں؟
7۔ ”ہم چوما دیگرے نیست“ کی تگڑم بازی کی مشق ہے یا نہیں؟
8۔ کبھی چھوٹے پیمانے پر آپ نے اپنے ماحول میں لیڈری کے ذوق کو آزمایا بھی ہے؟ اور آزمایا ہو تو نتیجہ کیا رہا؟
9۔ آپ کو اگر وزیر اعظم بننے کا موقع ملے تو آپ کیا کارنامے انجام دینا چاہتے ہیں اور اگر آپ کو وزارت سے اختلاف کرنا پڑے تو پھر آپ کا رویہ کیا ہوگا؟
10۔ آپ کی جاگیر، آمدنی اور ذریعہ روزگار کیا ہے اور خاندانی رسوخ کس درجے کا ہے؟

اگر آپ پرانے لیڈر ہوں اور مرمت طلب حالت میں پڑے ہوں تو براہِ کرم ذیل کے سوالات کے جوابات لکھ کر روانہ کرا دیجیے۔
1۔ نام، پتہ، عمر، تعلیم، مطالعہ، سیاسی مسلک وغیرہ کیا ہے(فوٹو بھی ارسال فرمائیے)
2۔ آپ کی لیڈری کی پوری ہسٹری کیا ہے؟
3۔ آپ نے قوم سے اب تک کیا کیا خیانتیں کی ہیں؟ ان میں سے کتنی ہضم ہو چکیں اور کتنی رسوائے زمانہ ہیں؟
4۔ آپ سے قوم کے لیے خیر و برکت کا کوئی کام کبھی اتفاقاً سرزد ہو چکا ہو تو اس کو ضرور تفصیل سے لکھیے۔
5۔ آپ نے کتنی حماقتیں ایسی کی ہیں، جو کرشمۂ قدرت کے تحت آپ کے لیے رحمت بن گئیں؟
6۔ اموالِ متروکہ کی لوٹ اور ناجائز الاٹمنٹوں کے معرکے میں آپ نے کتنی جانبداری کا ثبوت دیا ہے؟
7۔ جاہ و مناصب کی جنگ میں آپ نے گذشتہ دو سال میں کیا کیا کارنامے سر انجام دیے ہیں۔
8۔ آپ کے متعلق پبلک کی عام رائے کیا ہے؟
9۔ آپ عوام کو خطاب کریں تو عوام کیا حرکات کرتے ہیں؟
10۔ آپ کے حریف کون کون ہیں، کیسے ہیں اور وہ آپ کو ناکام رکھنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟
11۔ آپ کے حامی کون کون ہیں، کیسے ہیں او وہ آپ کی کامیابی کے لیے کیا کر رہے ہیں؟
12۔ آپ دوبارہ میدانِ عمل میں کون سا بہروپ بھر کر اترنے کو موزوں خیال فرماتے ہیں۔
13۔ آپ دوبارہ لیڈری کا منصب پا کر قوم پر مزید کیا احسانات فرمانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
14۔ آپ کو اگر لیڈری نہ مل سکے تو دنیا کس حد تک تاریک ہو جائے گی؟
15۔ آپ کے مقابلے میں اہل تر لوگ کون کون سے ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے آگے بڑھنے کے لیے جس ڈھٹائی کی ضرورت ہے کیا اس کی پوری مقدار آپ میں موجود ہے؟
16۔ آپ آئندہ کس پارٹی اور کس بلاک کے اندر سے نقب لگا کے ایوانِ اقتدار میں گھسنے کی تجاویز سوچ رہے ہیں؟
17۔ آپ کی جاگیر، آمدنی، اور ذریعۂ روزگار کیا ہے اور خاندانی اثر و رسوخ کس درجے کا ہے؟
آپ کی طرف سے سوالنامے کا جواب پہنچنے کے فوراً بعد فرم انٹرویو کے لیے تاریخ اور وقت کا تعین کر کے آپ کو مطلع کر دے گی۔
جلدی کیجیے، وقت ہاتھوں سے جا رہا ہے!

نیاز مند
”ا۔ ب۔ ج“
مینیجر شعبۂ نشر و اشاعت
لیڈر میکرز اینڈ الیکشن کمیشن ایجنٹس لمیٹڈ
پوسٹ بکس نمبر 10، ٹیلیفون نمبر 420، مقام نامعلوم​

٭٭٭​
نعیم صدیقی

بدھ، 1 جنوری، 2020

غزل: لوگ خوش ہیں کہ سال بدلے گا

0 تبصرے
لوگ خوش ہیں کہ سال بدلے گا
کیا ہمارا یہ حال بدلے گا؟

ہو گئے ہر ستم کے ہم عادی
اب تو ظالم ہی چال بدلے گا

دل بدلتا نہیں ہے کہنے سے
اشکِ توبہ میں ڈھال، بدلے گا

کون بدلے گا ملک کے حالات؟
کیا کبھی یہ سوال بدلے گا؟

ہم نے بدلی نہیں رَوِش تابشؔ
کیسے کہہ دوں مآل بدلے گا
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

اتوار، 15 ستمبر، 2019

غزل: مت رکھو دل کو یوں سدا خاموش​

0 تبصرے
مت رکھو دل کو یوں سدا خاموش​
ٹوٹ جائے گا جو رہا خاموش

جو سمجھتا تھا صرف میں ہی ہوں
ہر ستمگر وہ ہو گیا خاموش

اب کے مظلوم خوں رلائے گا
ہو چکا ہے یہ بارہا خاموش

بسمل آہو نے سہمے بچوں سے
آنکھوں آنکھوں میں کہہ دیا خاموش

چند چیخیں اُٹھی تھیں دل میں جنھیں
فکرِ دنیا نے کر دیا خاموش

ساعتِ پُر فتن ہے یہ تابشؔ
مٹ ہی جائے گا جو رہا خاموش​
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

پیر، 10 جون، 2019

غزل: آرزوؤں کا شجر اک ہم کو بونا چاہیے

0 تبصرے
آرزوؤں کا شجر اک ہم کو بونا چاہیے
زندہ رہنے کے لیے اب کچھ تو ہونا چاہیے

ضبطِ پیہم سے کہیں پتھر نہ ہو جائے یہ دل
صبر اچھی شے ہے لیکن غم پہ رونا چاہیے

مستعد رہنا ہے گر، لازم ہے عجلت سے گریز
لمبی راہوں کے مسافر کو بھی سونا چاہیے

ہر کس و ناکس کو اپنے دل میں دیتا ہے مقام
مجھ کو بھی تیرے دیارِ دل میں کونا چاہیے

مَیل دل کا مانگتا ہے شرمساری کا خراج
رات بھر تابشؔ اسے اشکوں سے دھونا چاہیے
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

منگل، 7 مئی، 2019

نظم: ام الکتاب (سورۃ الفاتحہ کا منظوم مفہوم)

0 تبصرے
ام الکتاب
سورۃ الفاتحہ کا منظوم مفہوم
٭
لائقِ ہر ثنا، مالکِ دوجہاں
تو بڑا مہرباں، تیری رحمت رواں

بادشاہی بچے گی تری ہی یہاں
جب لپٹ جائے گی یہ بساطِ جہاں

ہیں ہماری عبادات تیرے لیے
تیرے آگے ہی پھیلائے ہیں جھولیاں

سیدھے رستے پہ ہم کو چلا اے خدا! 
یعنی ہم کو دکھا جادۂ منعماں

اپنے مغضوب لوگوں کی رہ سے بچا
مت بنا ہم کو ہمراہیِ گمرہاں
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

جمعرات، 2 مئی، 2019

غزل: درِ مخلوق پہ سر اپنا جھکاتا کیا ہے

0 تبصرے
شہزاد احمد کی زمین میں ایک کاوش احباب کی بصارتوں کی نذر:

درِ مخلوق پہ سر اپنا جھکاتا کیا ہے
رب کے ہوتے ہوئے اوروں کو بلاتا کیا ہے

کامیابی کے لیے چاہیے سعیِ پیہم
ہاتھ پر ہاتھ دھرے خواب سناتا کیا ہے

وادیِ عشق میں کافی ہے مجھے راہِ حسینؓ
مجھ کو رستہ کسی مجنوں کا بتاتا کیا ہے

حاکمِ شہر! ترے ہاتھ پہ خوں ہے اِس کا
تربتِ شہر پہ اب پھول چڑھاتا کیا ہے

گر تجھے وقت ملے اپنے گریباں میں بھی جھانک
ہر گھڑی دوسروں پر خاک اڑاتا کیا ہے

ہے ترا قول و عمل نورِ ہدیٰ سے عاری
تو محبت میں فقط گھر کو سجاتا کیا ہے

ہر کوئی اپنے مفادات میں گم ہے تابشؔ
خود غرض دور میں زخم اپنا دکھاتا کیا ہے
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

ہفتہ، 13 اپریل، 2019

پیروڈی: کسی کا ہونے میں لگ گیا ہے

0 تبصرے
منیب احمد بھائی کی خوبصورت غزل کی پیروڈی میں کچھ نمک پارے
کسی کا ہونے میں لگ گیا ہے
ببول بونے میں لگ گیا ہے

ابھی تو شادی نہیں ہوئی ہے
ابھی سے رونے میں لگ گیا ہے

نمایاں رہتا تھا قبلِ شادی
پر اب تو کونے میں لگ گیا ہے

چھوئی نہ تھی جس نے اِستری بھی
وہ کپڑے دھونے میں لگ گیا ہے

نہیں تھا اتنا ظریف تابشؔ
کہ جتنا ہونے میں لگ گیا ہے
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​