انسان کی فطرت میں اللّٰہ تعالیٰ نے یہ عادت رکھی ہے کہ وہ معاشرے میں اپنے سے کسی نہ کسی طور ہم آہنگ فرد میں کشش محسوس کرتا ہے اور دوست بناتا ہے۔ وہ ہم آہنگی عمر میں برابر ہونا بھی ہو سکتی ہے۔ ایک جیسے خیالات کا ہونا بھی ہو سکتی ہے۔ ایک جیسے حالات کا ہونا بھی ہو سکتی ہے۔ تعلیم میں ایک ساتھ ہونا بھی ہو سکتی ہے، اور بے شمار دیگر وجوہات کی بنا پر بھی ہو سکتی ہے۔
ایک چھوٹا بچہ بھی دوست بناتا ہے۔ کبھی آپ بچے کو کسی دکان یا مجمع والی جگہ پر لے کر جائیں، آپ کا بچہ، اپنے ہم عمر بچوں میں کشش محسوس کرے...
پیر، 3 ستمبر، 2018
بدھ، 7 مارچ، 2018
نظم: مجھے انجان رہنے دو
مجھے انجان رہنے دو
٭
مجھے خاموش رہنے دو
ذرا کچھ دن
مجھے مدہوش رہنے دو
ابھی تو کچھ نہیں بگڑا
ابھی تو میرے گھر آنگن کا ہر موسم سہانا ہے
ابھی احساس دنیا کی حسیں بانہوں میں سوتا ہے
مجھے کچھ دیر رہنے دو
طرب انگیز خوابوں میں
مجھے منزل نظر آتی ہے
صحرا کے سرابوں میں
مجھے لاعلم رہنے دو
ابھی تو کچھ نہیں بگڑا
کہ میرا گھر سلامت ہے
ابھی احباب کی محفل میں فرحت بخش راحت ہے
ابھی میں زندگی کے رنگ اپنے گِرد پاتا ہوں
مجھے انجان رہنے دو
مجھے شام و فلسطیں کے مناظر یوں نہ...
منگل، 27 فروری، 2018
مختصر نظم: خواب
مختصر نظم: خواب
٭
زندگی کے کینوس پر
خواہشوں کے رنگوں سے
خواب کچھ بکھیرے تھے
وقت کے اریزر نے
تلخیوں کی پت جھڑ میں
سب کو ہی مٹا ڈالا
٭٭٭
محمد تابش صدیقی...
ہفتہ، 17 فروری، 2018
نظم: ایک مجبور مسلمان کی مناجات
یا الٰہی! ترے خام بندے ہیں ہمنفس ہی میں مگن اپنے رہتے ہیں ہمتیری مخلوق محکوم بنتی رہےظلم جابر کا دنیا میں سہتی رہےپڑھ کے احوال مغموم ہو جاتے ہیںپھر سے ہنسنے ہنسانے میں کھو جاتے ہیںظلم کو روکنے ہاتھ اٹھتے ہیں کب؟ بس دعا کے لیے ہاتھ اٹھتے ہیں ابحکمران اپنے، غفلت میں سوئے ہوئےاپنی عیاشیوں ہی میں کھوئے ہوئےڈور اِن کی ہے اغیار کے ہاتھ میںخیرِ امت ہے بیمار کے ہاتھ میںکرب اتنا ہے، الفاظ پاتا نہیںدل کی رنجش کا اظہار آتا نہیںاے خدا! بھیج اپنے کرم کا سحابختم دنیا سے ہو اب ستم کا یہ باب
دردِ مظلوم،...
غزل: خالق سے رشتہ توڑ چلے
خالق سے رشتہ توڑ چلےہم اپنی قسمت پھوڑ چلےطوفان کے آنے سے پہلےہم اپنے گھروندے توڑ چلےکچھ تعبیروں کے خوف سے ہیہم خواب ادھورے چھوڑ چلےاب کس کی معیت حاصل ہوجب سایہ ہی منہ موڑ چلےشاید کہ تمہیں یاد آئیں پھرہم شہر تمہارا چھوڑ چلےغفلت کی نیند میں ہے تابشؔکوئی اس کو بھی جھنجھوڑ چلے٭٭٭محمد تابش صدیق...
غزل: وہی صبح ہے، وہی شام ہے
وہی صبح ہے، وہی شام ہےوہی گردشوں کو دوام ہےنہ چھپا سکا میں غمِ دروںکہ مرا ہنر ابھی خام ہےشبِ انتظار ہے عارضییہی صبحِ نو کا پیام ہےدمِ وصل، وقفِ جنوں نہ ہویہ بڑے ادب کا مقام ہےرہِ عشق ہے یہ سنبھل کے چلبڑے حوصلے کا یہ کام ہےوہی بے کنار سا دشت ہےیہی منظر اپنا مدام ہےکبھی دُکھ ملے، کبھی سُکھ ملےیہی میرے رب کا نظام ہےپسِ پردہ رہتے ہیں نیک خوجو شریر ہے، سرِ عام ہےنہیں فکر تابشِؔ کم نظرکہ امام خیرالانامؐ ہے٭٭٭محمد تابش صدیق...
غزل: وفا کا اعلیٰ نصاب رستے
وفا کا اعلیٰ نصاب رستےصعوبتوں کی کتاب رستےہیں سہل الفت کے رہرووں کوہوں چاہے جتنے خراب رستےجو عذر ڈھونڈو، تو خار ہر سوارادہ ہو تو، گلاب رستےچمک سے دھندلا گئی ہے منزلبنے ہوئے ہیں سراب رستےرہِ عزیمت کے راہیوں کوگناہ مسکن، ثواب رستےکمی ہے تیرے جنوں میں تابشؔجو بن گئے ہیں عذاب رستے٭٭٭محمد تابش صدیق...
غزل: جو ہونا ہم فقیروں سے مخاطب
جو ہونا ہم فقیروں سے مخاطبتو رہنا با ادب، حسبِ مراتبانہیں کا ہے مقدر کامیابیاٹھائیں راہِ حق میں جو مصائبقدم رکھا ہے جب خود ہی قفس میںتو پھر آہ و فغاں ہے نامناسبامیرِ وقت سے اُمّید کم ہےبنے ہیں راہزن اس کے مصاحبکبھی ملتا تھا علم و فن جہاں سےہیں مرکز جہل کا اب وہ مکاتبترا لہجہ ہے تھوڑا تلخ تابشؔنہ ہو جائیں خفا یہ ذی مناصب٭٭٭محمد تابش صدیق...
غزل: زعم رہتا تھا پارسائی کا
زعم رہتا تھا پارسائی کاہو گیا شوق خود نمائی کاچھین لیتا ہے تابِ گویائیڈر زمانے میں جگ ہنسائی کاناؤ طوفاں سے جب گزر نہ سکےہیچ دعویٰ ہے ناخدائی کاخوش نہ ہو، اے ستم گرو! کہ حسابوقت لیتا ہے پائی پائی کابادشاہی کا وہ کہاں رتبہ ہے جو اس در پہ جبہ سائی کانیّتِ حاضری تو کر تابشؔغم نہ کر اپنی نارسائی کا٭٭٭محمد تابش صدیق...
غزل: بات جو کہنی نہیں تھی کہہ گئے
بات جو کہنی نہیں تھی کہہ گئےاشک جو بہنے نہیں تھے بہہ گئےراہِ حق ہر گام ہے دشوار ترکامراں ہیں وہ جو ہنس کر سہہ گئےزندگی میں زندگی باقی نہیںجستجو اور شوق پیچھے رہ گئےسعیِ پیہم جس نے کی، وہ سرخروہم فقط باتیں ہی کرتے رہ گئےاے خدا! دل کی زمیں زرخیز کرابرِ رحمت تو برس کر بہہ گئےشاد رہنا ہے جو تابشؔ، شاد رکھبات یہ آباء ہمارے کہہ گئے٭٭٭محمد تابش صدیقی
...
غزل: اِلٰہی عَفو و عطا کا تِرے اَحَق ہوں میں
اِلٰہی عَفو و عطا کا تِرے اَحَق ہوں میںخطاؤں پر ہوں میں نادم، عَرَق عَرَق ہوں میںکسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مریکتابِ زیست کا موڑا ہوا وَرَق ہوں میںیہ تار تار سا دامن، یہ آبلہ پائیبتا رہے ہیں کہ راہی بہ راہِ حق ہوں میںزبانِ حال سے یہ کہہ رہا ہے مجھ سے خلوصکہ اپنی قوم کا بھولا ہوا سبق ہوں میںجو ذرّے ذرّے کو روشن کرے، وہ تابشِؔ صبحافق پہ شام کو پھیلی ہوئی شفق ہوں میں٭٭٭
محمد تابش صدیقی
...
غزل: یونہی مایوس رہتا ہوں، اِسی میں ہے خوشی میری
یونہی مایوس رہتا ہوں، اِسی میں ہے خوشی میریتُمھیں مسرور کرتی ہے، پریشاں خاطری میریبتا اے چارہ گر مجھ کو، سبب کیا ایسی نسبت کاجو دل میں درد بڑھتا ہے، تو بڑھتی ہے ہنسی میریخدایا لاج رکھ احباب کی اندھی محبت کیمِرے اخلاص کی خاطر، چھُپا کم مائیگی میرییہ کچھ سطریں جو اُبھری ہیں، مِرے بحرِ تخیل میںفقط احساس ہے میرا، نہیں ہے شاعری میرینگاہِ التفاتِ ساقیِ کوثر کا پیاسا ہوںمئے گُلرنگ سے کیونکر بُجھے گی تشنگی میری؟پھنسا ہوں کارِ دنیا میں، مگر اُمّید ہے تابشؔکہ دربارِ رسالتؐ میں لکھی ہے حاضری میری٭٭٭محمد...
غزل: مثلِ خورشید وہ ابھرتے ہیں
مثلِ خورشید وہ ابھرتے ہیں
عشق کی راہ میں جو مرتے ہیں
یاد اس کی سمیٹ لیتی ہے
جب بھی ہم ٹوٹ کر بکھرتے ہیں
دوستوں کو فریب دے کر ہم
کیوں بھروسے کا خون کرتے ہیں
جھوٹ ہے مصلحت کے پردے میں
دُور سے سچ کے ہم گزرتے ہیں
پیرویِ نبیؐ تو عنقا ہے
ہم محبت کا دم ہی بھرتے ہیں
ہے یہ احسان اسی کا اے تابشؔ
کہ بگڑ کر جو ہم سنورتے ہیں
٭٭٭
محمد تابش صدیقی...
نعتیہ دوہے
محترمی شاکر القادری صاحب کی تحریک پر لکھے گئے۔
دل کے اندر میل ہے، کیسے لکھوں نعت
دو مصرعے بھی محال ہیں، اتنی ہے اوقات
٭
غافل آپؐ کی طاعت سے، عشق برائے نام
مسلم ہے یہ ظاہراً، باطن اس کا خام
ساقیِ کوثر آپؐ ہیں، شہرہ ہے یہ عام
جام پلا دیں تابشؔ کو، بن جائے اس کا کام
٭٭٭
محمد تابش صدیقی ...